برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل مسترد،تھریسامے کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش

برطانوی پارلیمان نے بھاری اکثریت سے یورپی یونین سے اخراج کا معاہدہ مسترد کر دیا جب کہ وزیراعظم ٹریزامے کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کردی گئی جس پر ووٹنگ آج ہوگی۔

برطانوی دارالعوام میں بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ ہوئی جس کے دوران 202 اراکین نے حق میں جب کہ 432 نے مخالفت میں ووٹ دیا، یہاں تک کہ کنزرویٹو پارٹی کے تقریباً 118 ارکان نے حزب مخالف کے ساتھ مل کر اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔

 

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔

 

پارلیمان سے بریگزٹ معاہدہ منظور کرانے میں ناکامی کے بعد اپوزیشن لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے وزیراعظم ٹریزامے کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا اور آج ایوان میں اسے پیش کیا جائے گا۔ ووٹنگ سے قبل تھریسامے نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ 2016 کے ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ برطانوی عوام کے اس جمہوری فیصلے پر ہم نتائج دیں۔

 

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اس معاہدے کے خلاف ووٹ سے غیریقینی اور بٹوارے کی صورتحال جنم لے گی جس کے بعد کسی بھی قسم کا معاہدہ نہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ بریگزٹ معاہدے کی پارلیمانی سے منظوری نہ ہونے کو وزیراعظم کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے، اس معاہدے پر ووٹنگ ابتدائی طور پر دسمبر میں ہونا تھی تاہم وزیراعظم ٹریزامے نے اس وقت بھی شکست کو بھانپتے ہوئے اسے ملتوی کر دیا تھا۔

 

یاد رہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی حتمی تاریخ 29 مارچ مقرر ہے اور اس معاہدے میں برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کی شرائط متعین کی گئی تھیں۔ ووٹنگ کے وقت معاہدے کے حامیوں اور مخالفین کی بڑی تعداد پارلیمنٹ کے باہر جمع تھی جو اپنی کامیابی کی امید کے ساتھ ہاتھوں میں ڈھول اور بانسریوں سمیت دیگر آلات کے ہمراہ موجود تھے جبکہ کچھ افراد نے پارلیمنٹ کی تاریخی عمارت کے باہر ریلی بھی نکالی۔

بریگزٹ معاہدہ مسترد ہونے پر مخالفین نے مظاہرہ، جب کہ حامیوں نے جشن منایا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

EUROPEAN UNION

Theresa May

BREXIT

free trade

Jeremy Corbyn

UK Parliament

Tabool ads will show in this div