اینٹی منی لانڈرنگ قوانین مؤثر نہ بنائے تو پاکستان بلیک ہوسکتا ہے، وزارت خزانہ

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : وزارت خزانہ کے لیگل ایڈوائزر نے کہا ہے کہ عالمی اداروں نے اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین مؤثر بنانے کی تنبیہہ کی ہے ورنہ پاکستان بلیک لسٹ ہوجائے گا، طاہر مشہدی کہتے ہیں وزارت داخلہ نے الطاف حسین کا شناختی کارڈ  جاری کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

چیئرمین طلحہ محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق مجوزہ بل کا جائزہ لیا گیا۔

وزارت خزانہ کے لیگل ایڈوائزر منیر ضیاء نے کہا کہ عالمی اداروں نے اینٹی منی لانڈرنگ کے سخت قوانین بنانے کو کہا ہے، قوانین سخت نہ کئے تو پاکستان بلیک لسٹ ہوسکتا ہے، پھر انٹرنیشنل بینک پاکستان کی رقوم کی ترسیل روک سکتے ہیں، جس سے ملکی کاروبار اور نام خراب ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کی ٹیرر ازم فنانسنگ کی تعریف سے مطمئن نہیں، فورس 22 جون کو پاکستانی قوانین کا جائزہ لے گی۔

منیر ضیاء نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور اثاثے منجمد کرنے والے پاکستانی قوانین کمزور ہیں، نئے بل میں تجویز دی ہے کہ دہشت گردی سے متعلق فنڈز منجمد کئے جائیں اور غلطی سے منجمد ہونیوالے اکاؤنٹ بحال کئے جاسکتے ہیں، حکومت ہر 15 روز میں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرسکتی ہے۔

کمیٹی نے انسداد دہشتگردی کے دوسرے ترمیمی بل کا بھی جائزہ لیا، اس دوران طاہر مشہدی نے کہا کہ کراچی میں شریف لوگ اندر اور مجرم باہر ہیں، 90 روز تک کسی کو زیرحراست رکھنا ظلم ہے، کراچی میں 17 ہزار لوگ پکڑے گئے، سزا ایک کو بھی نہیں ہوئی، نچلی سطح پر عدالتی نظام کام نہیں کررہا ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ قبل از ٹرائل اسکریننگ سسٹم بہتر بنارہے ہیں۔ سماء

hamilton

dengue

Tabool ads will show in this div