رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی منافع خور سرگرم ہوگئے

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : رمضان سر پر ہیں لیکن مہنگائی کا جن بھی سوا سیر ہے، جہاں منافع خور ماہ صیام کی آمد سے پہلے ہی عوام کو آٹھ آٹھ آنسو رُلا رہے ہیں۔

بابرکت مہینے کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا طوفان بوتل کے جن کی طرح باہر نکل آیا ہے، سرکاری طور پر اشیائے کی قیمتوں سے متعلق لسٹ دکاندار لفٹ کرانے کو تیار نہیں۔ پھل، سبزیاں بھی مہنگی اور دالیں، چاول کے دام بھی آسمان پر پہچن گئے ہیں، گھی اور تیل کی بھی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔

لاہور میں آلو 70روپے کلو، تو کراچی میں 60روپے اور پشاور میں 90روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، جب کہ لاہور میں پیاز 40روپے کلو تو کراچی میں 35روپے اور پشاور میں 50روپے کلو میں فروخت کی جارہی ہے۔ کیلے کی فی درجن قیمت لاہور اور کراچی میں 120جب کہ پشاور میں 130روپے ہے۔

لاہور میں فی کلو آٹا 37روپے، کراچی میں 42 روپے اور پشاور میں 40 روپے کلو میں فروخت کیا جارہا ہے، دکاندار کہتے ہیں حکومت جو قیمت مقرر کرتی ہے، اس پر اشیاء بیچنا ناممکن ہے۔ دو کروڑ سے زائد کی آبادی کے شہر کراچی کے کمشنر نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسپیشل ٹاسک فورس بنا دی ہے۔

منافع خوروں نے تو ابھی سے آستینیں چڑھالیں، مگر سرکار زبانی جمع خرچ میں مصروف ہے۔ عوام انتظامیہ کے دعووں پر یقین کرنے کو تیار نہیں کیونکہ ہمیشہ کی طرح حکومتی دعووں کی قلعی کھلنے میں صرف دو روز رہ گئے ہیں۔ سماء

سے

Economy

آمد

sick

screening

Tabool ads will show in this div