سسٹم کی ناکامی نے نینو ٹیکنالوجی کے ڈاکٹریٹ کو بےروزگار کررکھا ہے

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/Berozgar20PHD20Doctor20Isb20Pkg2008-011.mp4"][/video]

سسٹم نے اعلیٰ  ترین تعلیم کو بے وقعت کرکے رکھ دیا ۔ اٹلی سے پی ایچ ڈی کرکے وطن کی خدمت کیلئے واپس آنے والےڈاکٹر حنیف کو دو برس سے نوکری نہیں ملی۔

اٹلی سے پی ایچ ڈی کرکے پاکستان آنے والے ڈاکٹر حنیف 36 برس کی عمر میں 56 سال کے دکھتے ہیں۔ انھوں نے  نینو ٹیکنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی لیکن اعلیٰ ترین درجے تک کی اتنی پڑھائی نہ ان کے اپنے کسی کام آئی اور نہ ہی ان کو ملک میں کوئی پوچھتا ہے۔

ڈاکٹر حنیف سسٹم سسٹم پر دکھی ہیں اور کہتے ہیں کہ ناقدری اور بے بسی کی انتہا ہوچکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گلگت سے کراچی تک تمام یونیورسٹیوں میں اپلائی کیا،اگر نوکری نہ ملی تو 20 سالہ محنت ضائع ہوجائے گی۔

دنیا اپنے ریسرچ اسکالرز کو پلکوں پر بٹھاتی ہے اور پاکستان میں پی ایچ ڈی اسکالرز سراپا احتجاج ہیں کہ کوئی کام دے کر ملک و قوم کیلئے ان سے خدارا کوئی تو کام لے لیا جائے ۔

جنھوں نے ملک کا مستقبل سنوارنے کیلئے پی ایچ ڈی کیا ان کا اپنا مستقبل غیر محفوظ ہے ۔

phd

nano technology

education system in pakistan

Tabool ads will show in this div