سال 2018ء میں عوام کو سب سے زیادہ پریشان کن کمپنیوں نے کیا؟

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/Sab-say-Ziada-Shiqayat-Isb-Pkg-08-01.mp4"][/video]

سال 2018ء میں عوام کی زندگی اجيرن بنانے والے اداروں میں بجلی کمپنیاں سب سے آگے رہیں، وفاقی محتسب نے سالانہ رپورٹ جاری کردی، بجلی کے حوالے سے شکايت ميں لاہور پہلے، کراچی دوسرے، حیدرآباد تیسرے اور پشاور چوتھے نمبر پر رہا، گيس والوں کی کارکردگی سے بھی عوام ناخوش رہے، سوئی ناردرن نے پنجاب، کے پی، اسلام آباد اور آزاد کشمیر والوں کی ناک میں دم کئے رکھا۔

وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے پریس کانفرنس میں گزشتہ سال موصول ہونیوالی شکایات اور ان کے ازالے سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کے محکموں نے 2018 میں عوام کا جینا دوبھر کئے رکھا، لاہور، کراچی، حیدر آباد اور پشاور والے بجلی کیلئے دہائیاں دیتے رہے تو سوئی ناردرن نے ملک کے میدانی اور بالائی علاقوں کو خوب نیچا دکھایا۔

وفاقی محتسب کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ شکایات بجلی کی کمپینوں کے خلاف موصول ہوئیں، لیسکو کیخلاف 14 ہزار، کے الیکٹرک کیخلاف 8 ہزار 718، پشاور الیکٹرک کیخلاف 3 ہزار اور سوئی ناردرن کیخلاف 3790 شکایات ملیں۔

رپورٹ کے مطابق سال بھر میں موصول 71 ہزار کے قریب شکایات میں سے 69 ہزار سے زائد نمٹادی گئیں، ملک بھر کے 8 ایئرپورٹس پر موجود شکایات کاؤنٹرز نے بیرون جانے اور آنیوالے ڈیڑھ لاکھ کے قریب پاکستانیوں کی شکایات حل کی گئیں۔

وفاقی محتسب نے 2019ء کو آگاہی کا سال بھی قرار دے دیا۔ بولے کہ زیادہ تر لوگ وفاقی محتسب کے کردار سے واقف نہیں، آگاہی پروگرام کیلئے پی ٹی اے اور دیگر نشریاتی اداروں کی بھی مدد لی جائے گی، پہلا پروگرام مارچ میں صدر ہاؤس میں ہوگا، شکایات درج کرنے کیلئے موبائل ایپ شروع کی جائے گی۔

طاہر شہباز کے مطابق  سپریم کورٹ نے جیل اصلاحات پر عملدرآمد کا ٹاسک دے دیا، رواں سال 100 اداروں کے ساتھ مربوط شکایات سیل بھی بنیں گے، 30 روز میں مسئلہ حل نہ ہوا تو معاملہ خود بخود وفاقی متحسب تک پہنچ جائے گا۔

KE

LESCO

Federal Ombudsmen

Tabool ads will show in this div