خواجہ آصف نے بجلی کے بلنگ سسٹم میں خرابی کا اعتراف کرلیا

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : وفاقی وزیر پانی و بجلی نے بلنگ سسٹم میں خرابی کا اعتراف کرلیا، کہتے ہیں کہ 15 فیصد اوور بلنگ ہوئی، انہوں نے بھاری بھرکم بلوں کی وجوہات بھی گنوائیں، خواجہ آصف نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ٹائم فریم دینے سے انکار کیا، بولے آئندہ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسلام آباد میں واپڈا کمپلیکس آفس کا افتتاح کرنے کے بعد وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ بجلی کے صارفین کو 14 سے 15 فیصد اووربلنگ ہوئی، اس کی وجوہات گنواتے ہوئے کہا کہ دراصل 30 کے بجائے 35 روز کی بلنگ کی گئی اور جولائی میں عوام کو 16 فیصد بجلی زیادہ فراہم کی گئی، مزید یہ کہ رمضان میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے باعث بھی بل زیادہ آئے، گرمیوں میں اضافی بلنگ نہیں کی گئی، اکتوبر 2013ء سے سلیب کی سہولت ختم کردی گئی تھی۔

خواجہ آصف نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ٹائم فریم دینے سے انکار کیا اور کہا کہ آئندہ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کی کوشش کریں گے، سرکلر ڈیٹ 400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، کوشش ہے کہ جلد سے جلد سرکلر ڈیٹ کم کیا جائے، وزارت خزانہ نے 15 ارب روپے جاری کردیئے ہیں جو آج ہی آئی پی پیز کو جاری کردیئے جائیں گے۔

وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ میگا پراجیکٹ پر حکومت کا فوکس ہے، داسو ڈیم پر کام شروع ہوچکا ہے، تھاکوٹ اور پنجی ڈیم پر کام جلد شروع کردیں گے، بھاشا ڈیم کیلئے زمین خرید لی گئی، بونجی ڈیم کا پی سی ون مکمل کردیا، تربیلا فور اور فائیو سے 2000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہوگی، پہلے مرحلے میں 1400 میگاواٹ بجلی جلد ملنا شروع ہو جائے گی۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ تیل کے بجائے پانی اور کوئلے سے سستی بجلی پیدا کرنا چاہتے ہیں، شمالی علاقوں میں پانی جبکہ جنوبی علاقوں میں کوئلے سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ سماء

paper

carolina

Tabool ads will show in this div