شہد کی آٹھ اقسام بھی ناپید ہونا شروع

موسمیاتی تبدیلیاں جہاں پوری دنیا کیلئےخطرے کا سبب ہیں وہیں اس سے شہد کی آٹھ اقسام بھی ناپید ہونا شروع ہو گئی ہیں، شہد کی چھوٹی صنعت بھی اِس خطرے کی لپیٹ میں ہے۔

پھولوں کا نشیلا رس چوس کر یہ مکھیاں میٹھا شہد بناتی ہیں، شہد پاکستان میں تو استعمال ہوتا ہی ہے بیرون ملک برآمد کرکے بھی کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں، مگر اب موسمیاتی تبدیلیوں کے زہر سے شہد کا یہ عہد خطرے میں ہے۔

بیری کا شہد دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھا، مگر مقامی درختوں کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیداوار میں واضح کمی آئی۔ ڈائریکٹر ہنی بی ریسرچ ڈیپارٹمنٹ، این اے آر سی ڈاکٹر راشد کے کہا ہے کہ جہاں پر ہماری ایوریج 20، 25 کلو تھی کم ہو کر 10، 12 پر آ گئی ہے، جو مین سیزن ہوتا ہے شہد کی پیدوار کا اس وقت بارشیں شروع ہو جاتی ہیں یا خشک سالی آ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پھولوں کی کمی سے مالٹا، گرینڈا، اوشیا جیسے متعدد فارمی شہد نا پید ہو گئے، مستقبل میں قدرتی شہد کو بھی یہی خطرہ ہے

ڈاکٹر راشد نے کہا کہ آئندہ10 سال میں شہد ملنا مشکل ہو جائے گا، یہ ایک دم سڈن چینج آ رہی ہے۔ فلور کم ہونے کی وجہ سے شہد پیدا ہونا کم ہو گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں اورقدرتی آفات اپنی جگہ اگر حکومت صرف مقامی درختوں کو بچالے تو قدرتی شہد کا یہ ختم ہوتا عہد بچایا جاسکتا ہے۔

honey bees attack

Tabool ads will show in this div