اسلام آباد کا شہر پلاننگ سے بنا، بس کچہری رہ گئی

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/F8-Kacheri-Isb-Pkg-07-01.mp4"][/video]

اسلام آباد بنانے والے معماروں نے بھی کیا خوب منصوبہ بندی کی ۔ بڑے بڑے سیکٹرز بنا دیئے لیکن منصوبہ ساز ضلعی عدالتوں کو ماسٹر پلان میں شامل کرنا ہی بھول گئے اور نتیجتاً پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود مستقل کچہری نہ بن سکی۔

تنگ گلیوں میں اسٹامپ فروش اور فائلیں اٹھائے وکلاء نظر آتے ہیں ۔ جبکہ انصاف کے منتظرسائلین پریشان رہتے ہیں کہ کہاں عدالت کا دروازہ ہے اور کہاں وکیل کا چیمبر ہے۔

سائلین کہتے ہیں کہ اتنے چیمبر ہیں کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ چیمبر کہاں ہے اور عدالت کہاں۔ ان کے مطابق ججز بھی جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے کیس سنتے ہوئے ڈسٹرب ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پشاور کا بی آر ٹی منصوبہ شہریوں کے لیے زحمت بن گیا

اسلام آباد پوری منصوبہ بندی سے بننے والا پاکستان کا پہلا شہر ہے مگر منصوبہ ساز کچہری کا نقشہ بنانا شاید بھول گئے۔

صدراسلام آباد بار ایسوسی ایشن ریاست علی آزاد کہتے ہیں جب ماسٹر پلان بنا تھا تو اس کے اندر ضلع کچہری کے حوالے سے کوئی جگہ مختص نہیں کی گئی تھی۔

سی ڈی اے سے پوچھا گیا تو جواب ملا کہ ہم نے نئی جگہ پلاٹ الاٹ کردیا اب وکلاء جانیں اور ان کا کام ۔

اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے کے ترجمان صفدر شاہ نے بتایا کہ وکلاء کو چیمبر کے لئے پانچ ایکڑ کا پلاٹ الاٹ کر دیا ہے ، آگے بلڈنگ بنانا تو ان کا کام ہے۔

اسلام آباد جیسے مثالی شہر کی کچہری کی بھول بھلیاں ماسٹر پلان بنانے والوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اسلام آباد کے قیام کے وقت تو اس عارضی کچہری سے کام چلا لیا گیا مگر اب یہ جگاڑ مزید چلانا ممکن نہیں۔

city court

Anak Krakatoa volcano

Tabool ads will show in this div