بلوچستان میں دہشتگردی افغانستان سے درآمد کرائی جارہی ہے،وزیر داخلہ بلوچستان

بلوچستان کے وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اقوام متحدہ افغانستان سے دہشتگردی کی پاکستان منتقلی کی تحقیقات کرائے۔

کوئٹہ کے سول اسپتال میں پشین بم دھماکے کے زیر علاج زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی فضاء قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کئی سالوں سے ہماری فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ایسے واقعات میں ملک دشمن عناصر ملوث ہیں۔

وزیرداخلہ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ایک ہی نیٹ ورک ملوث ہے جو نام بدل بدل کر پیسوں کے عوض کارروائیاں کرتا ہے۔ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں مگر قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی کوششوں کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے اور جلد مکمل امن قائم ہوجائے گا۔

 وزیرداخلہ بلوچستان ضیا لانگو کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں فورسز امن کے قیام کیلئے آئی تھیں مگر وہ امن وامان قائم کرنے میں ناکام رہے اور ان کے آنے کے بعد سے دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان سے دہشتگردی پھیل کر پاکستان  تک آگئی ہے۔دہشتگردی کے واقعات میں نہ صرف ہمارے فورسز کے اہلکار نشانہ بن رہے ہیں بلکہ عام شہری بھی براہ راست متاثر ہورہے ہیں  اور سینکڑوں کی تعداد میں شہری مررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کو ایسی فورس یا ایسی ٹیم بھیجنی چاہیے جو یہاں پر دہشتگردی بڑھنے کی وجوہات معلوم کریں۔

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ کوئٹہ سے دسمبر کے دوسرے ہفتے میں اغواء ہونےوالے ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی بازیابی کیلئے کوششوں میں پیشرفت ہوئی ہے امید ہے کہ جلد مغوی کو بازیاب کرالیا جائیگا۔

 

security forces

UNITED NATION

pashin blast

Tabool ads will show in this div