تین سالہ بچی کاقتل،جرگےکےفیصلےکےباوجود قاتل کوہرصورت گرفتارکرینگے

ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں میں تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم کی تلاش کیلئے 300 افراد کا ڈی این اے حاصل کیا گیا ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جرگے کے فیصلے کے برعکس وہ ڈی این اے کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کے بچی کے قتل کی جدید سائنسی طریقوں سے تفتیش جاری ہے، ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے بھجوائے گئے 301 نمونوں میں سے 182 کی رپورٹ موصول ہو چکی ہے، جن میں سے کسی کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا، باقی مانندہ کا رزلٹ آنا ابھی باقی ہے، اس کے علاوہ جیو فرانزک ٹیسٹ کے نتائج کا ابھی انتظار ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے خصوصی گفت گو میں ڈسٹرکٹ پولیس چیف عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ کہ کل 301 افراد کے ڈی این اے سیمپلز فرانزک سائنس ایجنسی پنجاب کو بھیجے گئے ہیں، مزید 80 افراد کی ڈی این اے رپورٹ آج موصول ہونے کے بعد یہ تعداد 278 ہو جائے گی۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ انہیں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کلیاں گاوں میں ہونے والے جرگے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملزم کی تصدیق ہونے پر اسے پولیس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ جرگے نے یہ فیصلہ زینب قتل کیس کے باعث کیا۔ مقامی افراد اسی ڈر کی بنا پر تین سالہ بچی کے قاتل کو پولیس کے حوالے نہیں کرنا چاہتے ہیں کہ کہیں اس بچی کے قاتل کا بھی یہ ہی انجام ہو۔

تحقیقات کرنے والے افسر کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی ڈی این اے رپورٹ سے ابھی تک قاتل کا سراغ نہیں مل سکا ہے، تاہم ہوسکتا ہے کہ ملزم کو جان پوچھ کر پولیس سے چھپایا جا رہا ہو اور ہم اس کا ڈی این اے حاصل نہ کرسکے ہوں۔

ڈی پی او مروت کے مطابق ملزم اور اس کو بچانے والے چاہے کتنی ہی چلاکیاں کرکے ملزم کو چھپالیں، ڈی این اے کی جدید ٹیکنالوجی سے ٹیسٹنگ ملزم تک پہنچنے میں مدد فراہم کرے گی، اگر لیے گئے ڈی این اے میں سے کسی ایک رشتے دار کا بھی ٹیسٹ مثبت نکلا تو اس سے قاتل کو پکڑنے میں آسانی ہوگی۔

 

واضح رہے کہ ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں میں 26 دسمبر کو تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ بچی منگل 25 دسمبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب گھر سے لاپتا ہوئی، جس کے بعد اس کے گھر والے اس کی تلاش میں مصروف رہے، مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔ ملزم نے جنسی زیادتی کے بعد بچی کو رات گئے سردی میں کھلے آسمان تلے پھنیک دیا تھا، جہاں بچی شدید سردی اور زخموں کے باعث جاں بحق ہوئی۔

 

ڈی ایس پی اعجاز کے مطابق بچی کے گھر والوں نے شام ساڑھے سات بجے تھانے میں رپورٹ درج کروائی اور اس کے بعد پولیس نے بچے کی تلاش کا عمل شروع کیا۔ بچی کا تعلق حویلیاں کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کیالہ سے ہے، جو دریا کے کنارے واقع ہے۔ یہاں کی آبادی صرف چند ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

 

پولیس کے مطابق بچی کی لاش 26 دسمبر کی صبح گاؤں کے قریب ایک کھائی میں ملی جسے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھجوایا گیا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کی ہلاکت خوف اور تکلیف کی وجہ سے ہوئی اور بچی کے ساتھ زیادتی ثابت ہوئی۔

MINOR GIRL

Assualt

Tabool ads will show in this div