ایبٹ آباد،3سالہ بچی زیادتی کےبعدقتل،180افرادکےڈی این اےمنفی قرار

ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں میں 26 دسمبر کو زیادتی کے بعد قتل ہونے والی تین سالہ بچی کے قاتل تاحال گرفتار نہ ہوسکے۔ پولیس نے 180 افراد کے ڈی این اے نمونوں کے نتائج منفی قرار دے دیئے۔

ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں میں تین سالہ بچی کے قتل کا کیس اب بھی حل طلب ہے۔ دس روز گزر جانے کے بعد بھی پولیس ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی۔

ایبٹ آباد پولیس کے مطابق ڈی این اے کے 300 نمونوں میں سے 180 کے نتائج موصول ہو چکے ہیں، تاہم موصول ہونے والے 180 ڈی این اے نمونوں کے نتائج منفی آئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ڈی این اے کے مزید نمونوں کے نتائج کا انتظار ہے۔ واضح رہے کہ ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں میں 26 دسمبر کو تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ بچی منگل 25 دسمبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب گھر سے لاپتا ہوئی، جس کے بعد اس کے گھر والے اس کی تلاش میں مصروف رہے، مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔

ڈی ایس پی اعجاز کے مطابق بچی کے گھر والوں نے شام ساڑھے سات بجے تھانے میں رپورٹ درج کروائی اور اس کے بعد پولیس نے بچے کی تلاش کا عمل شروع کیا۔ بچی کا تعلق حویلیاں کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کیالہ سے ہے، جو دریا کے کنارے واقع ہے۔ یہاں کی آبادی صرف چند ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

پولیس کے مطابق بچی کی لاش 26 دسمبر کی صبح گاؤں کے قریب ایک کھائی میں ملی جسے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھجوایا گیا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کی ہلاکت خوف اور تکلیف کی وجہ سے ہوئی اور بچی کے ساتھ زیادتی ثابت ہوئی۔

Minor Girl Killed

Assualt

Tabool ads will show in this div