معیشت میں بہتری کااعتراف،پاکستان،آئی ایم ایف میں مذاکرات کامیاب

Nov 30, -0001

 ویب ایڈیٹر:

اسلام آباد   :   پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے پچپن کروڑ ڈالر کی قسط منظور کرلی گئی ہے، جب کہ مالیاتی خسارہ چار فیصد رکھنے کی رعایت مل گئی ہے۔ آئی ایم ایف حکام نے پاکستان کی معاشی صورت حال میں بہتری کا اعتراف کرلیا۔

 

پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے پچپن کروڑ ڈالر کی قسط منظور کرلی گئی ہے،   جب کہ مالیاتی خسارہ چار فیصد رکھنے کی رعایت مل گئی ہے۔ آئی ایم ایف حکام نے پاکستان کی معاشی صورت حال میں بہتری کا اعتراف کرلیا۔

 

اسلام آباد میں پاکستانی اور آئی ایم ایف حکام کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق داڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان توانائی بحران کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے، توانائی بحران اور دوسرے چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے، اگلے تین سال میں معاشی ترقی کا سفر جاری رکھیں گے۔

 

پریس کانفرنس کے دوران اسحاق داڑ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف حکام سے مذاکرات کامیاب رہے، بیس ماہ میں پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی، عالمی بینک نے پاکستانی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے، تیل کی قیمتیں برقرار رکھنے کی بھی کوشش کیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق ملک دشمنوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں 44ارب روپے کا خرچہ ہوا،تاہم انسداد دہشت گردی جنگ میں تیس ارب سے زائد خرچ ہوں گے۔

 

آئندہ پالیسیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگلے تین سال معاشی ترقی کا سفرجاری رکھیں گے، 4.9فیصد ترقی کی شرح کا ہدف حاصل کریں گے، اگلے مالی سال کا بجٹ خسارہ4.3فیصد ہی رکھیں گے، اپریل میں افراط زر کی شرح2.1فیصد رہی، جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ایک فیصد سے بھی کم ہوگیا، مہنگائی سے متعلق اعدا و شمار کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں مہنگائی بارہ سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، جب کہ محصولات میں 12.8اضافہ ہوا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں سولہ فیصد اضافہ، آئندہ بھی پاکستانی معیشت اور ترقی کرے گی۔

 

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام کی جانب سے مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 4 فیصد رکھنے پر اصرار کیا گیا آئی ایم ایف حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت مالیاتی خسارہ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتی، تاہم حکومتی مؤقف کے مطابق آپریشن ضرب عضب پر بھاری اخراجات ہو رہے ہیں، جس کے باعث مالیاتی خسارہ ساڑھے چار فیصد تک رکھنے کی اجازت مانگی گئی۔ سماء

میں

ایف

Tabool ads will show in this div