خیبرپختونخوا میں پہلی خاتون محتسب تعینات

خیبر پختونخوا حکومت نے 9 برس تاخیر کے بعد ورک پلیس پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پہلی خاتون محتسب تعینات کردی ہیں۔

صوبائی کابینہ نے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں رخشندہ ناز کی بطور محتسب تعیناتی کی منظوری دے دی۔

قانون کے مطابق اس عہدے پر کسی خاتون کو ہی تعینات کیا جاتا ہے جس کی ذمہ داری ورک پلیس پر خواتین کی ہراسانی سے متعلق کیسز کی شنوائی کرنا ہے۔

خاتون محستب کی تعیناتی کا قانون 2010 میں بن گیا تھا جس کے تحت تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں 3 ماہ کے اندر خاتون محتسب تعینات کرنے کی پابند تھیں جس پر دیگر تمام حکومتوں نے عملدرآمد کرلیا تھا مگر خیبر پختونخوا حکومت نہ کرسکی۔

صوبے کی پہلی خاتون محتسب مقرر ہونے والی رخشدہ ناز کوئٹہ میں پیدا ہوئی اور گزشتہ 25 برس سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ خیبر پختونخوا ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے اس عہدے کے لیے تین نام شارٹ لسٹ کیے تھے جن میں کابینہ نے رخشندہ ناز کے نام کی منظوری دے دی۔

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے رخشندہ ناز نے کہا کہ 25 برس سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام کیا ہے اور اب محتسب کے ادارے میں اصلاحات میری کامیابی تصور ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے مجھ پر اعتماد کرکے اس عہدے کے لیے منتخب کیا، ان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گی۔

رخشندہ ناز پشاور میں عورت فاؤنڈیشن کی بانیوں میں شمار کی جاتی ہیں جہاں انہوں نے 16 برس خواتین کے حقوق کے لیے کام کیا اور علاوہ ازیں خیبر پختونخوا حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس کی مضبوطی میں بھی معاونت کی۔

رخشندہ ناز 1989 میں پشاور آئیں جہاں خیبر لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 1993 میں عورت فاؤنڈیشن کا زونل دفتر قائم کیا۔ انہوں نے مزید اعلیٰ تعلیم برطانیہ میں حاصل کی۔

HARRASMENT

Workplace

Tabool ads will show in this div