Technology

ناسا کا خلائی جہاز پراسرار سیارچے کے قریب سے گزرنے کیلئے روانہ

امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی جہاز نیوہورائزنز منگل یکم جنوری کو پلوٹو کے مدار سے باہر ایک سیارچے الٹیما ٹْولی کے قریب سے گزرنے کےلئے روانہ ہوگیا۔


برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ سیارہ زمین سے ساڑھے چھ ارب کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اگر نئے افق اس کے پاس سے گزرا تو یہ نظامِ شمسی کا سب سے دور سیارہ یا سیارچہ ہوگا جس تک انسان کا بنایا ہوا کوئی خلائی جہاز پہنچنے میں کامیاب ہوگا۔

یہ فاصلہ اتنا دور ہے کہ یہاں سے زمین تک ریٖڈیو سگنل پہنچنے میں چھ گھنٹے آٹھ منٹ کا وقت لگتا ہے۔ اس دوران نیو ہورائزنز اس سیارچے کی تصاویر لے گا اور اس کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرے گا۔ یہ تصاویر سال نو کے آغاز پر براہ راست دکھائی جائیں گی۔

اس وقت جہاز سیارچے سے ساڑھے تین ہزار کلومیٹر دور ہوگا اور اس کی رفتار 14 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوگی۔ مشاہدات مکمل کرنے کے بعد جہاز زمین پر لوٹ آئے گا اور اس کی میموری میں موجود تمام ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا جائے گا۔

اس سے پہلے 2015ء میں نیو ہورائزنز نے پلوٹو کے قریب سے گزر کر ساری دنیا کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ الٹیما تک پہنچنے کے لیے اسے خلا میں مزید ڈیڑھ ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑا۔ الٹیما ٹولی صرف چار سال قبل دریافت ہوا تھا اور اس کے بارے میں سائنس دانوں کو بہت کم معلومات ہیں۔

Pluto

SOLAR SYSTEM

Ultima Thule

Tabool ads will show in this div