کالمز / بلاگ

نئی حکومت ،نیا سا ل ۲۰۱۹

دو ہزار اٹھارہ الیکشن کا سال تھا، اس لیئے اس سال نئی حکومت سے کسی خاص کارکردگی کی توقع تو نہیں کر سکتے تھے، تبدیلی صرف ایک ہی دیکھنے میں آئی اور وہ تھی نئے الیکشن کے بعد نئی پارٹی کی حکومت ،پی ٹی آئی جو مطالبات حکومت سے کنٹینرپرکرتی چلی آئی تھی، حکومت ملنے کے بعدان مطالبات پرعمل کرنے کاوقت آگیا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان سے نئے پاکستان تک کا سفرکیسا ہوگا۔

نیا سال پی ٹی آئی کی نئی حکومت کیلئے کڑے امتحان کے سواکچھ بھی تو نہیں لے کر آیا، اسدعمرکی وہ باتیں جووہ پیٹرول کی کم قیمت کرنے کیلئے کیا کرتے تھے، ان پرعمل کرنے کا وقت بھی آچکا ہے، دوسری جانب پی ایم ایل این جو حکومت میں رہ کر اپوزیشن کوتحمل رکھنے کے مشوروں سے نوازتی رہی۔اب اسے خود اپوزیشن میں رہ کر اپنی ہی مشوروں پر عمل کرنا ہوگا اورتنقید برائے تعمیرکرنی ہوگی۔

نئی حکومت کے سامنے زینب قتل کیس کے بعد لگاتار ہونے والے بچوں سے زیادتوں کے کیس سوالیہ نشان بن کر کھڑے ہیں کیا یہ سب نئے پاکستان میں بھی ہوگا۔اس کا جواب براہ راست عمران خان کو ہی دینا ہوگا، بچوں کے ساتھ زیادتیوں کے حوالے سے ایک ادارے کے قیام کی تجویز میری جانب سے بارہا پیش کی جاتی رہی ہے۔نئے سال میں حکومت وقت سے ایک مرتبہ پھرگزارش ہے کہ قومی سطح کا ادارہ بنائیں جوزیادتی کا شکاربچوں کے مسائل حل کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں ان کیلئے تجاویز پیش کرے اورقانون سازی کیلئے حکومت کی رہنمائی کرے۔اس ادارے میں ماہرنفسیات بھرتی کرنے ضروری ہیں۔ لوگوں کی تربیت ضروری ہے۔ جیسے زینب کیس میں والدین بچی کو چھوڑ کرعمرے پر چلے گئے تھے تو اسے محفوظ رکھنے کیلئے ساتھ لے جاتے تو یہ حادثہ نہ ہوتا۔ والدین اور بچوں کی آگاہی کیلئے ٹی وی پر مہم چلانی ضروری ہے ور نہ زینب سے لے کر حویلیاں ایبٹ آباد میں فریاد تک کے کیس ہمارے معاشرے کی گھٹن کو ظاہر کرتے رہیں گے۔

نئی حکومت کومیڈیا کے حوالے سے بھی اپنی ایک واضح پالیسی لانی ہوگی۔خاص طورپرمیڈیا کارکنوں میں پھینے والی شدید بے روزگاری۔ اس کی وجہ حکومت کی جانب سے اگر اشتہاروں کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہے تو یہ ایک ظالمانہ قدم ہی ہو سکتا ہے۔ فوری طور پر حکومت میڈیا کومکمل ادائیگیاں کرکے آکسیجن فراہم کرے تا کہ نیا پاکستان بے روزگاری کی تصویر نہ بنے۔

فواد چوہدری پاکستان میں انٹرٹینمنٹ کے فروغ کیلئے بارہا اچھے کلمات ادا کرچکے ہیں کاش اب وہ اس کیلئے عملی اقدامات بھی کریں اور شعبے سے وابسطہ افراد کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے فلم انڈسٹری کو عروج کی جانب گامزن کریں۔اسی سلسلے میں دیکھا جائے تو سرکاری ٹی وی میں ڈرامہ پروڈکشن نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اسے واپس کون لائے گا، کسی بھی ڈرامے میں پرائیویٹ پروڈکشن کے برابر جب تک سرکاری ٹی میں معاوضہ نہیں ملے گا کوئی بھی پروفیشنل کام نہیں کرنا چاہے گا، فواد چوہدی کو نئے سال میں ان سب کو بھی دیکھنا ہوگا۔

پنجاب میں سابقہ حکومت کے جو اچھے کام زیر تکمیل ہیں انہیں مکمل کرنے سے نئے پاکستان کو پرانا نہیں سمجھا جا سکتا تو گزارش ہے کہ آپ چاہے اپنی تختیاں لگائیں مگران سب مفید کاموں کو بھی مکمل کریں۔ نیز پنجاب میں ایک اچھے مضبوط وزیر اعلی کی ضرورت ہے جس کا اپنا بھی وزن ہو ورنہ کمزور وزیر اعلی آپ کی جگ ہنسائی کا ہی سبب بنتا رہےگا۔

نئے سال میں نئے پاکستان کی تعلیم پر بھی توجہ دینی ہوگی، بے روز گار پی ایچ ڈی افراد کیلئے بھی سوچنا ہوگا۔ پی ایچ ڈی ایسو سی ایشن کے رہنما ایک ڈاکٹر شیر افضل کیا آئے روز مظاہرے ہی کرتے رہیں گے یا ان کو اور تمام پی ایچ ڈی افراد کو میرٹ پر روزگار دیا جائےگا، یہ بھی دیکھنا ضروری ہے۔

صحت کارڈحکومت کا اچھا قدم ہو سکتا ہے لیکن ایچ آئی وی کی روک تھام اور دیگر امراض کیلئے بھی اقدامات کرنا ضروری ہیں، تھلیسیما کا مرض کیسے پھیلتا جا رہا ہے۔ شادی سے پہلے صرف ایک ٹیسٹ اس مرض کونئے پاکستان کا حصہ بننے سے روک سکتا ہے۔ توحکومت کو پورے ملک میں یہ کام کرنا ہوگا، اس کے علاوہ جو بچے تھلیسمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہو چکے ہیں ان کیلئے ادویات بیت المال یا سرکاری طور پر فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے، میں نے ایسے بچوں کیلئے ہارون، طارق اوراقبال صاحب کو قریب سے تڑپتا ہوا دیکھا ہے۔

ELECTION

IMRAN KHAN

New year

2018

2019

Tabool ads will show in this div