راوی کنارے غصیلی چیلوں نے راہ گیروں کی ناک میں دم کر دیا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/Angry-Eagles-Lhr-Pkg-28-12.mp4"][/video]

لاہورميں دريائے راوي کے کنارےچيلوں نے قبضہ جماليا، لوگ بلائيں ٹالنے کے لئے صدقے کا گوشت دريا ميں پھينکتے ہيں اور گوشت پر جھپٹنے والي چيليں راہ گيروں کے لئے مشکلات کھڑي کرديتي ہيں۔

صدقے کا گوشت بيچنا کاروبار بن چکا ہے  ہرچھوٹي بڑي شاہراہ پر گوشت بيچنے والے جابجا نظرآتے ہيں ليکن اپني بلائيں ٹالنے کے لئے پھينکا جانے والا گوشت دوسروں کے لئے مشکلات بھي پيدا کرسکتا ہے۔

رواي کے کنارے  صدقے کا گوشت بيچنے والوں کي لائن لگي ہےاور دريا کے آس پاس چيلوں کا راج  ہے

درختوں اور کھمبوں پر بيٹھي یہ چيليں دريا کے پل پر نظرجمائے رکھتي ہيں جونہي کوئي گوشت دريا ميں پھينکتا ہے چيلوں کا جھنڈ گوشت کے ٹکڑوں پر ٹوٹ پڑتا ہے۔

راہ گيروں کا کہنا ہے کہ چیلیں جب گوشت کے لیئے آتی ہیں تو کسی گاڑی یا موٹرسائیکل سے ٹکرا جاتی ہیں جس کی وجہ سے حادثہ ہوتا ہے۔

خوفناک انداز ميں جھپٹتي چيليں اپنے علاقے ميں ديگر پرندوں کو بھي برداشت نہيں کرتيں۔

وائلڈ لائف کے ڈپٹي ڈائريکٹر نعيم بھٹي کہتے ہیں کہ چيليں اور کوے چھوٹے پرندوں اور ان کے انڈوں کو کھا جاتے ہيں۔

 دوسری طرف صدقے کا گوشت پھينکنے سے دريائے راوي پر گندگي ميں اضافہ ہوتا جارہا ہےضلعي انتظاميہ کو کبھي کبھارجوش آتا ہےتو ٹريفک وارڈنز گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف متحرک ہوجاتے ہيں

 مگر خانہ بدوشوں کے يہ بچے بھاگ کرادھرادھر ہونے کےتھوڑي دير بعد واپس آکر اپني جگہ سنبھال ليتے ہيں۔

اس کے علاوہ چیلوں کی تعداد بڑھنے کےقدرتی ماحول پر اثرات بھی سامنے آ رہے چیلوں کے گنجان علاقوں میں اب چھوٹے پرندے نظر نہیں آتے۔

 

accidents

WILD LIFE

Tabool ads will show in this div