لاہور میں پرینک ویڈیو شوٹ کرنے والے نوجوان کو گولی مار دی گئی

لوگوں سے مذاق کرنا اور ويڈيو کو سوشل ميڈيا پر ڈالنے کے نتائج خطرناک بھي ہوسکتے ہيں، لاہور ميں ’’پرينک‘‘ ويڈيو شوٹ کرنے والے نوجوان کو گولي ماردي گئي۔


پارک ميں بيٹھے يا راہ چلتے کوئي اجنبي اچانک آپ کے سامنے آئے اور کوئي الٹا سا سوال کر دے، اس ايڈونچر کو اردو ميں مذاق اور انگريزي زبان ميں پرينک کہتے ہيں۔

لاہور کے لٹن روڈ کے رہائشي گھر سے پرينک شوٹ کرنے نکلے ليکن ان ميں سے ايک خود شوٹ ہوگيا۔ مقتول زوہير، حسنات اور صبور کے ساتھ سڑک پر لوگوں کو بھوت بن کر ڈرا رہا تھا۔ پرينک شوٹ کے دوران جھگڑا ہوا جس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کي اور زہير موقع پر ہي دم توڑ گيا۔

مقتول کے والد رانا شعيب نے بتایا کہ ميرا بيٹا دوستوں کے ساتھ مل کر ويڈيوز بناتا تھا۔

ڈي آئي جي آپريشنز وقاص نذير کہتے ہیں کہ مغرب ميں تو يہ سب پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے ليکن يہاں آپ اچانک کسي کے ساتھ ايسا کريں گے تو ردعمل بھي آئے گا۔

عملي زندگي سے زيادہ سوشل ميڈيا پر سرگرم رہنے والے نوجوان محض تفريح کے لئے چھيڑ چھاڑ تو کرتے رہتے ہيں ليکن اس کے منفي نتائج کا انہيں بھي بخوبي علم ہے

نوجوان زوہير کے قتل کے بعد اس کے دونوں دوست بھي پوليس کي حراست ميں ہيں۔ پوليس کو شبہ ہے کہ گولي مارنے والے بھي کوئي اور دو نوجوان ہيں جو بہت جلد قانون کي گرفت ميں ہوں گے۔

boy killing

prank video

You tuber

Tabool ads will show in this div