علی رضا عابدی کی موت گردن میں لگنے والی گولی سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ

Dec 26, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/Ki-Ali-Raza-Investigation-Pkg-26-12.mp4"][/video]

متحدہ قومی مونٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کی موت گردن میں لگنے والی گولی سے ہوئی۔


منگل 25 دسمبر کو کراچی کے علاقے خیابان غازی میں گھر کے باہر موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے علی رضا عابدی کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے وہ جاں بحق ہوگئے۔

ايم ايل او جناح اسپتال کے مطابق علی رضا عابدی کو تین گولیاں لگیں جبکہ ان کي موت گردن میں لگنے والی گولی سے ہوئی۔

علی رضا عابدی کو تینوں گولیاں بدن کے اوپر حصوں پر لگیں، ایک گولی چہرے اور ایک گولی کندھے پر لگی۔

دوسری جانب انچارج سي ٹي ڈي راجہ عمر خطاب کہتے ہيں کہ علی رضا عابدی کو ان کے گھر کے باہر ڈرائیونگ والی سائیڈ سے نشانہ بنايا گيا، ملزمان پیچھا کرتے ہوئے آئے اور دس سیکنڈ کے اندر حملہ مکمل کیا۔

علی رضا عابدی کی نماز جنازہ بعد نماز ظہرین ادا کی جائے گی

انچارج سي ٹي ڈي کے مطابق موٹر سائيکل پر سوار دونوں ملزمان انتہائی ماہر نشانہ باز تھے جنہوں نے کیپ پہن رکھي تھی۔

نیشنل کاؤنٹرٹير رازم اتھارٹی نے نشاندہی کی تھی کہ سیاسی قیادت کو جنوبی افریقہ سیٹ اپ قتل کرنا چاہتا ہے، جنوبي افريقہ نيٹ ورک کے راشد منہائي اور وسيم عرف قمر ٹيڈي متحرک ہيں۔

حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی جنوبی افریقہ سیٹ اپ کے ملوث ہونے کی اطلاعات پر تحقیقات جاری ہیں۔

علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔

JInnah Hospital

Ali Raza Abidi murder

post mortem reprot