ٹھٹھہ میں تیرنے والے اونٹوں کی نسل معدوم ہونے لگی

Dec 22, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/Thatta-Camel-Pkg-22-12-Ayaz.mp4"][/video]  

ٹھٹھہ کے ساحل اور انڈس ڈیلٹا میں تیرنے اور ریس میں حصہ لینے والے اونٹ پائے جاتے ہیں جو اس علاقے کی خصوصیت ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلیاں اور مختلف امراض کے باعث ان کی نسل خطرے کا شکار ہے۔

صحرا کا جہاز، ٹھٹھہ میں سمندر کا جہاز کہلاتا ہے۔ کھارے پانی کا اونٹ سمندر میں کئی ناٹیکل میل تک تیر سکتا ہے۔ ٹھٹھہ کا یہ علاقہ کھارے کے اونٹوں کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے مگر ان اونٹوں میں بیماری کے با‏عث یہ ناپید ہورہے ہیں۔

گذشتہ کچھ سال سے دریائے سندھ میں پانی کی قلت کے سبب ڈیلٹا میں مینگرووز اور پیلو کے درخت کمیاب ہو گئے ہیں  جس نے کھارائی نسل کے اونٹ کی افزائش پر بھی برے اثرات مرتب کیے ہیں۔

کھارائی کے اونٹ ثقافتی ریس ، تیراکی ، مال برداری اور دیگر کاموں میں استعمال ہوتے ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس خاص نسل کی افزائش کے لیے خصوصی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

انڈس ڈیلٹا میں پیدا ہونیوالے ضلع ٹھٹھہ کے کھارائی نسل کے اونٹ گذشتہ کچھہ سالوں سے عدم تحفظ اور دیگر اسباب کے باعث تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div