مقتول مفتی عثمان کی نمازجنازہ آج اداکی جائے،جامعہ دارالخیرمیں کارکن جمع

اسٹاف رپورٹ
کراچی : کراچی میں قتل کئے گئے جمعیت علمائے اسلام کے مفتی عثمان یار اور دو ساتھیوں کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی۔ یونی ورسٹی روڈ پر مشتعل کارکنوں نے احتجاج کیا، مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ناکام ہوچکی ہے اسے فوری مستعفیٰ ہوجانا چاہئے۔

کراچی میں کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ٹارگٹ کلنگ کی واردات نہ ہوتی ہو، خوف کے سائے ہر طرف منڈلاتے نظر آتے ہیں، معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کب کہاں سے گولی آئے اور کسی کے بھی جسم کو چیرتی ہوئی آر پار نکل جائے۔

گزشتہ روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کے مفتی عثمان یار اور ان کے دو ساتھیوں کو شارع فیصل پر عوامی مرکز کے قریب موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعہ میں مفتی عثمان ان کے ڈرائیور محمد رفیق اور مدرسے کا طالب علم محمد علی جاں بحق ہوئے۔

مفتی عثمان کے مدرسہ دارالخیر کے اطراف علاقے میں سوگ ہے، جب کہ دکانیں اور کاروبار بھی بند ہے۔ مفتی عثمان کی نماز جنازہ سفاری پارک کے قریب ان کے مدرسے میں بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی۔ پارٹی سربراہ مولانا سمیع الحق نماز جنازہ پڑھائیں گے، انہوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

مفتی عثمان کے والد مفتی اسفند یار خان کہتے ہیں حکومت بے بس ہے، آپریشن بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود پولیس اہلکار اور شہری بھی محفوظ نہیں، مفتی عثمان کے قتل کے خلاف یونی ورسٹی روڈ پر مشتعل کارکنوں نے احتجاج کیا جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ سفاری پارک سے جوہر چورنگی جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔ سماء

کی

آج

reforms

motion

Tabool ads will show in this div