انوکھاقانون:ہاتھ ملائے بغیرشہریت نہیں ملے گی

ڈنمارک میں اپنی طرز کا انوکھا قانون منظور کرلیا گیا۔ نئی شہریت حاصل کرنے والوں کو حکام سے ہاتھ ملائے بغیرشہریت نہیں دی جائے گی۔

ڈنمارک میں گزشتہ روز منظور کیے جانے والے اس قانون کے تحت شہریت لیتے وقت حکام سے ہاتھ ملانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نئے قانون سے مخلتف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آرہا ہے۔

ڈنمارک میں رہائش پزیرمسلم کمیونٹی خصوصا اس حوالے سے تحفظات کا شکارہے کیونکہ وہاں پہلے ہی چہرہ چھپانے پر پابندی عائد ہے اس لیے کہا جا رہا ہے کہ نئی قانون سازی مسلمانوں کونشانہ بنانے کیلئے کی جا رہی ہےوہ بھی اس صورت میں جب پردہ دارخواتین غیر مردوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کو انتہائی معیوب سمجھتی ہیں۔

اس حوالے سے کئی میئرز نے بھی اعتراضات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قانون سے ہمیں عوام کیخلاف استعمال کیا جائے گا۔

ڈنمارک میں یکم اگست 2018 کو نقاب کرنے پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف بھی ملک بھرمیں مظاہرے کیے گئے تھے۔

دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک ڈینش قانون سازمارٹن ہنری سین کا کہنا ہے کہ جب آپ ڈنمارک آتے ہیں تو ہاتھ ملانا یہاں کی روایات میں شامل ہے اور ایسا نہ کرنا اہانت آمیز تصور کیا جاتا ہے۔

 

DENMARK

Tabool ads will show in this div