قبضہ مافیا سے پری چہرہ کا مقبرہ بھی متاثر

پشاور میں ملکہ ایران پری چہرہ کا دو سو سالہ مقبرہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کھنڈر بن گیا ۔ مقبرے کی اراضی پر تنازعات نے اس تاریخی ورثے کو صفحہ ہستی سے ہی مٹادیا ۔

گھنا جنگل اور اس میں پھیلی وحشت دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کسی زمانے میں اس جگہ ملکہ ایران پری چہرہ کا خوبصورت مقبرہ ہوا کرتا تھا ۔

سال 1750 کے قریب ایران کے بادشاہ نادر شاہ اپنی بیوی پری چہرہ کو بیماری کے باعث پشاور میں چھوڑ کر مزید فتوحات کے لئے روانہ ہوگئے۔ پری چہرہ جب زندگی کی بازی ہار گئیں تو انہیں یہیں دفن کردیا گیا۔

مقبرہ پری چہرہ آٹھ کنال کے رقبے پر محیط تھا لیکن اس اراضی پر تنازعات سے یہ اب سکڑ کر چند گز رہ گیا ہے۔

مقبرے کے مرکزی دروازے کے آگے قبضہ مافیہ نے ڈیرے ڈال لئے ہیں ۔ اس تاریخی مقبرے کو اگر جلد محفوظ نہ کیا گیا تو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے یہ تاریخی ورثہ قصہ پارینہ بن جائے گا ۔

archaeology

land grabbing mafia

Pari Chehra

Iranian queen

Tabool ads will show in this div