کالمز / بلاگ

خواجہ برادران کی گرفتاری: احتساب یا انتقام؟

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بعد نیب نے مسلم لیگ (ن) کے ایک اور اہم ترین رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو عدالت عالیہ سے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کیا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی خواجہ برادران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے نیب کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ جب بھی احتساب کی بات ہوتی ہے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے رہنما متحد ہوکر اسے انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ جب بھی احتساب کا عمل تیز ہوتا ہے یہ جملہ ضرور سنائی دیتا ہے کہ جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی لیڈروں نے نیب کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر حزب مخالف کی قیادت کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کٹھ پتلی حکمرانوں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ خواجہ برادران کی گرفتاری پر نواز لیگ سے زیادہ سخت مؤقف پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ چند دنوں میں پیپلز پارٹی کے کچھ اہم رہنماؤں کی گرفتاری ممکن ہے۔ مختلف مقدمات اور انکوائریز میں سابق صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرداری پیشیاں بھگت رہے ہیں جبکہ نیب نثار کھوڑو، ضیاء لنجار، جام خان شورو سمیت پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف بھی انکوائری کر رہا ہے۔ شرجیل میمن کرپشن مقدمات میں پہلے ہی جیل میں ہیں اور ڈاکٹر عاصم بھی اب تک کرپشن مقدمات سے بڑی نہیں ہوئے۔

احتساب ضرور ہونا چاہیے اور بلاتفریق ہونا چاہیے۔ احتساب کو انتقام کہنا درست نہیں۔ پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نیب کو کالا قانون کہنا اس لئے نہیں جچتا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) باری باری پورے پانچ سال اقتدار میں رہیں اور یہ قانون بھی رہا اس لئے اب نیب کو کالا قانون کہنا درست نہیں۔ نیب سمیت تمام ادارے ماضی کی نسبت زیادہ بااختیار ہیں اس لئے احتساب کے عمل کو انتقامی کاروائی قرار دینے کے بجائے سیاسی رہنماوؤں کو عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے، اگر وہ بت قصور ہیں تو وہ ضرور مقدمات سے بری ہو جائیں گے۔ عوام سمجھتی ہے کہ احتساب کا عمل شفاف ہے اور نیب بلاتفریق کاروائی کر رہا ہے۔ آج مسلم لیگ (ن) کے رہنما نیب کو آمریت کی پیداوار قرار دے رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) پانچ سال اقتدار میں رہی تب آمر کے اس قانون کو منسوخ کیوں نہیں کر دیا؟ اگر آج نواز لیگ یہ سمجھتی ہے کہ حکومت نیب کو ان کے خلاف استعمال کر رہی ہے تو نواز لیگ کے دور اقتدار میں یہی الزام پیپلز پارٹی ڈاکٹر عاصم حسین اور شرجیل انعام میمن کی گرفتاری کے بعد نواز لیگ پر لگاتی رہی۔

تمام جماعتیں متفق ہیں کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے اور بلاتفریق ہونا چاہیے کیونکہ کرپشن نے ملکی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ خیبر پختونخوا میں نیب غیرفعال کیوں ہے؟۔ اگر حکومت  واقعی نیب کو سیاسی مخالفین کو دبانے اور کچلنے کے لئے استعمال کر رہی ہے تو یہ غلط ہے کیونکہ اگر نیب انکوائری کی بنیاد پر گرفتاریاں کر رہا ہے تو حکمران جماعت کے لوگ کیوں باہر ہیں جیسے کہ علیم خان جو نیب کی انکوائری بھگت رہے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے نیب کو کالا  قانون کہنا درست نہیں مگر اس قانون کا استعمال سب کے لئے ہونا چاہیے ناکہ صرف اپوزیشن کے لئے۔ اگر نیب صرف اپوزیشن اراکین کو گرفتار کرے گا اور حکمران جماعت کے لوگوں کو ریلیف دے گا تو یہ سوال ضرور اٹھیں گے کہ یہ احتساب ہے یا انتقام، اس لئے نیب کو بلاتفریق کاروائی کرنی چاہیے تاکہ کوئی یہ نا کہہ سکے کہ ہمیں احتساب نہیں انتقام کی بُو آرہی ہے۔

NAB action

Tabool ads will show in this div