Technology

پاکستانی آئی ٹی کمپنی جعلی ڈگریوں کی فروخت میں ملوث، امریکی اخبار کا دعویٰ

اسٹاف رپورٹ

نیویارک : امريکی اخبار نيويارک ٹائمز نے دعویٰ کيا ہے کہ پاکستان کی لیڈنگ آئی ٹی کمپنی جعلی آن لائن ڈپلومے اور ڈگریاں فروخت کرکے لاکھوں ڈالر بٹور رہی ہے، کمپنی امريکا اور مشرق وسطیٰ ميں امريکی وزير خارجہ جان کيری کے جعلی دستخط سے سرٹيفکيٹ کا اجراء بھی کرتی ہے۔

ارکان اسمبلی کی جعلی ڈگريوں کی بات پرانی ہوگئی، اب بین الاقوامی سطح پر جعلی ڈگریوں کا دھندا بھی سامنے آگيا اور یہ دھندہ کرنے والی پاکستان کی سرکردہ آئی ٹی کمپنی نکلی۔

امريکی اخبار نيويارک ٹائمز نے پاکستان کی لیڈنگ آئی ٹی کمپنی کے بارے ميں سنسنی خيز انکشافات کردیئے، رپورٹ کے مطابق کمپنی جعلی ڈگریوں کے آن لائن کاروبار کيلئے بین لااقوامی یونیورسٹیوں سے الحاق اور خوبصورت ناموں کے ساتھ ہائی اسکول، مسکراتے پروفیسروں کی تصاویر والے ڈھونگ اشتہارات سے دنیا بھر سے سادہ لوہ گاہکوں کو پھانستی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنی پاکستان کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کی برآمدات کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس کے ریکارڈ اور ویب سائٹس کے تفصیلی تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کا اہم کاروبار دنیا بھر میں جعلی تعلیمی اسناد کی فروخت ہے۔

امریکی اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2007ء میں برطانوی عدالت نے ایک جعلی پوليس کرمنالوجیسٹ جینی موریسن کو جیل بھیجا، جس نے اسناد مذکورہ کمپنی سے ہی حاصل کی تھیں۔

مذکورہ کمپنی نے مشرق وسطیٰ میں پیرا میڈیکل اسٹاف، انجينيئرنگ اور ایئر لائنز میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ترقی کيلئے فرضی ڈگرياں فروخت کيں۔

اور تو اور رپورٹ ميں يہ بھی انکشاف کيا ہے کہ گاہکوں کو اپنا سی وی بھاری بنانے اور اميگريشن کيلئے امريکی وزير خارجہ اور اسٹيٹ ڈپارٹمنٹ کے ديگر حکام کی جعلی توثيق سے دستاويزات جاری کی گئيں۔

امریکی اخبار کی رپورٹ ميں کمپنی کے سابق ملازمين کے بيانات کا حوالہ بھی ديا گيا ہے۔ سماء

war

policy

امریکی

clarke

Tabool ads will show in this div