بیرونی سرمایہ کاری میں 54 فیصد کمی، اسٹیٹ بینک

اسٹيٹ بينک نے تصدیق کی ہے کہ رواں مالی سال کے 5 ماہ کے دوران بيرونی سرمايہ کاری ميں 54 فيصد کمی ہوئی، جو 1.20 ارب ڈالر سے گھٹ کر 55 کروڑ ڈالر رہ گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونی سرمایہ سے متعلق تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق رواں مالی سال کے 5 ماہ کے دوران 54 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد مجموعی بیرونی سرمایہ کاری 1.20 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 55 کروڑ ڈالر رہ گئی۔

اسٹیٹ بینک نے بتایا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کی مد میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ میں 230 فیصد نمایاں کمی ہوئی جبکہ اس دوران اسٹاک مارکیٹ سے بھی 23 کروڑ ڈالر نکال لئے گئے۔

مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق براہ راست سرمایہ کاری 35 فیصد کمی سے 88 کروڑ ڈالر رہی، نومبر 2018ء میں براہ راست سرمایہ کاری 28 کروڑ ڈالر رہی جبکہ نومبر میں بیرون ملک سے 21.8 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں خطرناک حد تک کمی ہوئی جبکہ سونے کے نرخ بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں۔

DOLLARS

foreign investment

Tabool ads will show in this div