معروف افسانہ اور ناول نگار ممتاز مفتی کی 18 ویں برسی

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : معروف افسانہ اور ناول نگار ممتاز مفتی  کو ہم سے بچھڑے 18 برس بیت گئے مگر ''علی پور کا ایلی'' آج بھی زندہ ہے، انہوں نے اپنے مشاہدات و تجربات کو انوکھے انداز میں قارئین تک پہنچایا۔


ممتاز مفتی 11 ستمبر 1905ء کو ضلع گورداس پور کے گاؤں بٹالہ میں پیدا ہوئے، 1929ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کیا، آل انڈیا ریڈیو سے منسلک رہے جبکہ 1947ء میں فلم رضیہ سلطانہ لکھی۔


ممتاز مفتی ہفت روزہ استقلال سے بطور سب ایڈیٹر وابستہ رہے، مختلف اداروں میں خدمات سر انجام دینے کے بعد 1966ء میں وزارت اطلاعات سے بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریٹائرڈ ہوئے، انہوں نے 27 اکتوبر 1995ء کو اسلام آباد میں داعی اجل کو لبیک کہا۔


کرید، جستجو، چھپے ہوئے کو فاش کرنے کی آرزو اور پوشیدہ کو ظاہر میں لانے کی تمنا ممتاز مفتی کی فطرت میں ایسے موجود تھی جیسے پانی میں نمی، انہوں نے زندگی کے چہرے پر پڑے دبیز پردوں کو چاک اور معاشرتی رویوں پر چڑھے منافقت کے لبادوں کو تار تار کیا۔


ممتاز مفتی کا پہلا افسانہ ''جھکی جھکی آنکھیں'' 1936ء میں شائع ہوا، قیام پاکستان سے قبل ان کے 3 افسانوی مجموعے ان کہی، چپ اور گہما گہمی منظر عام پر آ چکے تھے، بعد میں اسمارائیں، گڑیا گھر، روغنی پتلے، سمے کا بندھن، کہی نہ جائے اور افسانوی کلیات مفتیانے شائع ہوئی۔


ممتاز مفتی مختلف تخیلقات پر نقوش ادبی ایوارڈ اور ستارہ امتیاز سے نوازے گئے، سفر حج پر لکھی گئی ان کی رپورتاژ ''لبیک'' سے زیادہ بامعنی، فکر انگیز اور فنکارانہ رپورتاژ اردو ادب میں نہیں لکھی گئی۔


ممتاز مفتی یورپ کے کامیو، سارتر اور کافکا کی ٹکر کے ادیب تھے، اگر ادب کے قاری نے علی پور کا ایلی اور الکھ نگری کا مطالعہ نہیں کیا تو اس نے 20 ویں صدی کی انسانی نفسیات کو بھی نہیں سمجھا۔ سماء

اور

کی

Multan

africa

removed

motion

Tabool ads will show in this div