پاکستان نے بھارتی جاسوس حامد نہال انصاری کو رہا کردیا

پاکستان نے مردان جیل میں قید بھارتی جاسوس حامد نہال انصاری کو رہا کردیا۔ حامد نہال انصاری غیر قانونی طور پر پاکستان آیا تھا۔ 23 سالہ حامد نہال انصاری ممبئی کا رہائشی ہے۔

پاکستانی جیل میں جاسوسی اور بغیر دستاویزات سفر کرنے کے جرم میں قید بھارتی شہری حامد نہال انصاری کی تین سال قید کی سزا 16 دسمبر کو مکمل ہوگئی تھی۔ حامد نہال انصاری کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت تھا۔ گزشتہ سماعت میں پشاور ہائی کورٹ نے حامد نہال انصاری کی سفری دستاویزات جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاکہ اس کی بھارت حوالگی کا کام ممکن بنایا جاسکے۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس حامد نہال انصاری کو نومبر سال 2012 میں کوہاٹ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حامد نہال کی فیس بک پر ایک لڑکی سے دوستی ہوئی تھی، جس سے ملنے کیلئے وہ پاکستان آنا چاہتا تھا۔

بھارتی جاسوس کیسے پاکستان پہنچا؟

بھارتی جاسوس حامد نہال انصاری نے پاکستان آنے کیلئے خفیہ منصوبہ بندی کی۔ 4 نومبر سال 2012 میں حامد نہال انصاری نے پاکستان آنے کیلئے ممبئی سے کابل فلائٹ کا چناو کیا۔ کابل پہنچنے کے چند روز بعد حامد انصاری کابل سے جلال آباد آگیا اور وہاں سے بغیر سفری دستاویزات اور پاسپورٹ کے پاکستان میں طورخم کے راستے داخل ہوا۔

 

پاکستان آمد پر حامد نہال انصاری نے دو دن کرک اور پھر کوہاٹ پہنچا۔ پولیس ذرائع کے مطابق حامد نہال نے کوہاٹ کے ایک مقامی ہوٹل میں قیام کیا اور اپنا نام حمزہ ظاہر کیا اور ہوٹل اسٹاف کو بیوقوف بنایا۔ حامد نہال انصاری نے جعلی نام کا جعلی آئی کارڈ استعمال کیا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حامد کی مشکوک حرکات پر شک ہوا تو اسے حراست میں لیا گیا۔

حامد نہال انصاری کون ہے؟

ذرائع ابلاغ سے جاری اطلاعات کے مطابق حامد نہال انصاری نے بھارت سے مینجمنٹ سائنسز میں ماسٹر کیا۔ پاکستان آمد سے قبل حامد نہال نے ممبئی کے کالج میں بطور لیکچرار ملازمت کا آغاز کیا۔ حامد نہال انصاری کی والدہ فوزیہ انصاری ممبئی میں ہندی کی پروفیسر اور کالج کی وائس پرنسپل ہیں۔ ان کے والد نہال احمد انصاری بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ ایک بڑے بھائی دانتوں کے ڈاکٹر ہیں۔

FOREIGN OFFICE

INDIAN SPY

raw agent

KULBHUSHAN

hamid nehal ansari

Tabool ads will show in this div