سانحہ اے پی ایس: ایک سحرافشاں گئی تو دوسری آگئی

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/APS-Teacher-Psh-Pkg-15-12.mp4"][/video]

آرمی پبلک اسکول پشاور پردہشت گردوں کے حملے کو چارسال گزرگئے۔ دہشت گردوں کيخلاف سينہ سپرہونے والي ايک ايسي ہي ٹيچر کے اہل خانہ نے ان کی یاد میں بھیتجی کا نام ان کے نام پررکھ دیا۔

ايک سحرافشاں گئي تودوسري آگئی ۔ سانحہ اے پي ايس ميں دہشت گردوں کے آگے ڈٹ جانے والي بہاردر ٹيچر نےاپني جان کا نذرانہ پيش کيا تو شہادت کے بعد بھائي نے اپني ننھي پري کا نام شہيد بہن کے نام پررکھ ديا۔

ننھی افشاں سب کو اپنی شہید پھپھو کی یاد دلاتی ہے جس نے یہ مثل سچ ثابت کی تھی کہ استاد روحانی والدین ہوتےہیں، اپنے بچوں کو بچاتے ہوئے سحر افشاں سانحہ اے پی ایس میں شہید ہو گئی تھیں۔

سحرافشاں کا بھائي اپني اکلوتي بہن سے جڑے لمحات ياد کرکے آج بھي افسردہ ہوجاتا ہے، اس کی يادگارتصويريں اور استعمال کي چيزيں آج بھي گھرکا حصہ ہيں۔

سولہ دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے اسکول پرحملہ کرکے علم کی شمع بجھانا چاہی لیکن قوم کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ واقعے نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ 144 بچوں اور ٹیچرز کے خون نے پوری قوت سے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی بنیاد رکھی۔

Army Public School Attack

sehar afshan

martyr teacher of APS

Tabool ads will show in this div