نسوانی جذبات کوبےباک اندازمیں ڈھالنےوالی خوشبو،انکارکی شاعرہ پروین شاکر

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : ''ہمیں خبر ہے ، ہوا کا مزاج رکھتے ہو
 مگر یہ کیا کہ ذرا دیر کو رکے بھی نہیں"۔ ''

اس جیسے سیکڑوں اشعار اور توانا لب و لہجے کی مالک ، ممتاز شاعرہ پروین شاکر کا آج اکسٹھواں یوم پیدائش ہے۔ خوشبو اور انکار کی شاعرہ، ماہ تمام کی طرح چمکتی پروین شاکر نے اپنے جانے کے بعد بھی آج تک مداحوں کے دلوں میں روشن ستارے کی طرح چمک رہی ہیں۔ انسانی انا، خواہش اور انکار کی شاعرہ پروین زخموں کو پھول بنانا جانتی تھیں۔

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ، کچھ تھا تیرا خیال بھی، بات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کی، چاند بھی عین چیت کا، اس پہ تیرا جمال بھی۔ پروین شاکر اردو ادب کا ''ماہ تمام''ہیں جو ہمیشہ اپنے جمال پر رہے گا۔ سچائی اور رعنائی ان کے شعر کی اساس ہیں تو محبت اور عورت ان کا موضوع ۔ ان کی شاعری خوشبو سے شروع ہو کر صد برگ، خودکلامی، انکار اور کف آئینہ سے ہوتی ہوئی ادبی افق پر '' ماہ تمام '' کی صورت طلوع ہوئی ۔ ان کے کلام میں جڑے ست رنگی لفظ اور ان کا ادراک نہ صرف قاری کو مخطوظ کرتا ہے بلکہ تخیل کی داد بھی طلب کرتا ہے۔ پروین شاکر نے قبولیت اور دائمی شہرت کا فاصلہ سبک روی سے طے کیا۔
 
دھوپ، پتا، شاخ، پھول اور خوشبو پروین شاکر کے استعارے ہیں،انہوں نے اپنی نسوانیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر طرح کی مضمون آفرینی کی ۔ان کی شاعری کی بھینی بھینی خوشبو آج بھی قارئین ادب کے اذہان معطر کئے ہوئے ہے۔
 
پروین شاکر نے''خوشبو'' کے دیباچے میں لکھا تھا ''محبت تقاضائے جسم و جاں سے ماوراء ہو جائے تو الہام بن جاتی ہے۔حسن جب لطافت کی آخری حدوں کو چھولے تو خوشبو بن جاتا ہے اور خوشبو حسن کی تکمیل ہے'' اور ماہ تمام کی تکمیل کے بعد پروین شاکر کی خواہش کی مطابق انہیں کوئی بکھرنے سے نہیں روک سکا،26 دسمبر 1994ء کو ایک ٹریفک حادثے نے پروین شاکر کو بیالیس برس کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملایا۔

 ''سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو
ہوا کے ہاتھ میں ایساکوئی ہنرہی نہ تھا'۔۔۔۔ سماء

Tabool ads will show in this div