مہذب زبان کےدیوانوں کی کراچی میں بیٹھک،عالمی اردوکانفرنس کادوسرادن

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
کراچی: آرٹس کونسل کراچی کی چھٹی عالمی اردو کانفرنس کا آج دوسرا روز ہے۔ کانفرنس میں بھارت، امریکا، برطانيہ اور دیگر ملکوں کے علاوہ ملکی اديب اور شاعر شریک ہیں۔

اردو مسخ ہو رہی ہے اور اسے بچانا ہے، یہی فکر لے کر اردو کے دیوانے چھٹی عالمی اردو کانفرنس ميں جمع ہیں۔ آرٹس کونسل میں شروع ہونے والی اس کانفرنس میں برطانيہ سے آئے رضا علی عابدی بھی موجود ہیں جو اردو کی بگڑتی شکل پر نالاں ہیں۔

عالمی اردو کانفرنس ميں ملک اور بيرون ملک سے اديبوں اور شاعروں کی کہکشاں اتر آئی ہے۔ افسانہ نگار انتظار حسين نے اپنے مخصوص انداز ميں مير کی فارسی شاعری کے اردو تراجم پر تبصرہ کيا اور شرکاء دم بخود سنتے رہے۔ بھارت سے آئے اديب شميم حنفی کا اردو سے محبت کا اظہار بھی دل موہ لینے والا تھا۔
 
ادیبوں کا کہنا تھا کہ کانفرنس ميں علم کے ہزاروں رنگ بکھرے ہيں جس کی جتنی بساط، اتنا ہی علم يہاں سے لے جا پائے گا۔ گيارہ سال بعد امريکا سے کراچی آنے والے ستيہ پال آنند نے ڈرتے ڈرتے خوف کی کہانی سنائی۔ بولے کہ بچوں نے کہہ کر بھيجا ہے کہ حالات خراب ہيں، انجان آدمی کے ساتھ باہر نہ جائیے گا۔

چھٹی عالمی اردو کانفرنس ميں کتابوں کے اجرا بھی ہوں گے۔ مشاعرے بھی اور اردو کی خدمت کرنے والے اديبوں اور شاعروں کو خراج تحسین بھی، اردو سے محبت کرنے والوں کے ليے يہ ميلہ اتوار تک جاری رہے گا اور اہل نظر کو فکر کی دعوت دیتا رہے گا۔ سماء

میں

کی

burger

Tabool ads will show in this div