اضافی موبائل فون رکھنے والوں سے فیس وصول کرے گی

Web
Web

حکومت نے  بیرون ملک سفر کرنے والوں سے اضافی اسمارٹ فونز پر نمایاں طور پر بھاری ڈیوٹی چارج وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

بیرون ملک سے پاکستان آنے والوں کے پاس اگر اضافی اسمارٹ فون ہوگا تو انہیں فیس دینا ہوگی، یہ قانون تمام افراد پر لاگو ہوگا اور کسی کو بھی ایک سال میں 5 فون سے زیادہ موبائل فونز لانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ صرف ایک موبائل فون رکھنے والوں کو کوئی فیس نہیں دینا ہوگی۔

اگر آپ کے پاس ایک سے زائد فون ہیں جس کی مالیت 40 ہزار روپے ہے تو آپکو 16 ہزار 100 یعنی رقم کا 40 فیصد مختلف ٹیکسز کی مد میں ادا کرنا ہوگا جس کے بعد اس موبائل فون کی قیمت 56 ہزار 100 روپے ہوجائے گی، ٹیکس موبائل کی قیمت پر منحصر کرتا ہے۔

اس معاملے سے آگاہ حکام کا کہنا ہے ڈیوٹی نئے ڈبہ پیک اور استعمال شدہ دونوں موبائل فونز پر لاگو ہوگی تاہم حکومت استعمال شدہ فون کی درآمد کو آسان بنا رہی ہے، استعمال شدہ فون کی درآمد کے حوالے سے حکومت نے آسان ڈیوٹی طے کی ہے اور ایک قانون بھی اس ضمن میں لانے کی تیاری ہورہی ہے۔

اس پالیسی کے ناقدین کا ماننا ہے کہ موبائل فون کی درآمد پر اتنی زیادہ ڈیوٹی عائد کرنے سے تاجر اور صارف دونوں کو نقصان ہوگا، کیوں کہ موبائل فون مہنگے ہوں گے اور اس طرح غریب عوام کی پہنچ سے دور ہوجائیں گے۔ یوں غریب عوام انٹرنیٹ کے ثمرات سے مستفید ہونے سے محروم ہوں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے انٹرنیٹ کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی جس کے نتیجے کے طور پر ہماری انٹرنیٹ پر مبنی معیشت کی نشوونما بھی متاثر ہوگی۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے موبائل فون کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے یہ اقدام اٹھانا ناگزیر ہے،  اس طرح ٹیکس چوری کی مد میں قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔

کسٹم اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکس کا پرانا نظام کافی پیچیدہ تھا اسی لیے حکومت نے عوام کے سمجھنے کے لیے اسے آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد اسمگلنگ کی روک تھام ہے کیوں کہ ہماری درآمدات کا 40 فیصد حصہ یہی اسمگل شدہ اشیاء ہوتی ہیں۔

کسٹم اہلکار نے مزید بتایا کہ ایک مرتبہ اس پیچیدہ ٹیکس نظام سے چھٹکارہ مل جاے اور عام فہم نظام نافذ ہوجائے تو پھر حکومت یقیناً ٹیکس کم کرنے پر بھی توجہ دے گی، خصوصاً عام لوگوں کے استعمال کے موبائل فون۔

MOBILE

TAX

Tabool ads will show in this div