سپریم کورٹ نے شناختی کارڈ سے والد کا نام ہٹوانے کا کیس نمٹادیا

Dec 13, 2018

شناختی کارڈ سے والد کا نام نہیں نکالا جاسکتا، سپریم کورٹ نے تطہیر فاطمہ کیس نمٹادیا، چیف جسٹس نے قانون سازی کیلئے معاملہ کابینہ کو بھجوادیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ولدیت کے کالم سے والد کا نام نکالنے سے متعلق تطہیر فاطمہ کے کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ تطہیر فاطمہ کا نام تبدیل کر کے تطہیر بنت پاکستان نہیں رکھا جا سکتا، نادرا یہ کام خود سے نہیں کر سکتا، اس کیلئے حکومت کو قانون سازی کرنا پڑے گی۔

سپریم کورٹ نے اس کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کئے، ان کی بھی یہی رائے ہے کہ قانون کے مطابق والد نے ذمہ داری پوری نہیں کی لیکن اس بنیاد پر ولدیت کے خانے سے والد کا نام نہیں نکالا جاسکتا۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے تطہیر کی والدہ سے سوال کیا کہ آخر آپ چاہتی کیا ہیں؟، جس پر تطہیر کی والدہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نادرا فارم میں ایک خانہ بڑھا دیا جائے، جس پر چیئرمین نادرا نے عدالت کو بتایا کہ گارڈین کا نام ہم پہلے ہی لکھ لیتے ہیں، اس حوالے سے عبدالستار ایدھی کیس کا فیصلہ بھی موجود ہے۔

عدالت نے کہا والد کی جگہ کسی دوسرے کا نام لکھنا، لکھوانا عدالتی دائرہ اختیار میں نہیں آتا، یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔

سپریم کورٹ پاکستان نے ولدیت کے خانے سے متعلق مناسب قانون سازی کیلئے معاملہ کابینہ کو بھجواتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔