تھر سے زیادہ ابتر حالت کسی علاقے کی نہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک کو من مرضی سے چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت کام کرے تو تنقید کی جاتی ہے۔

تھر میں غزائی قلت سے جاں بحق ہونےوالے بچوں کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تھر میں بنیادی سہولیات کے فقدان پر سپریم کورٹ برہم  ہو گئی مٹھی میں غذائی قلت سے نومولود بچوں کی ہلاکت کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تھر سے زیادہ ابتر حالت کسی علاقے کی نہیں۔اسپتالوں میں ادویات ہیں نہ ڈاکٹر،اسکولوں میں بھی کوئی سہولت نہیں۔ کیا ملک کو من مرضی سے چلایا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کے دورہ تھرانتظامیہ کی طرف سے عارضی کیمپ قائم کرنے کا انکشاف،مٹھی میں نومولود بچوں کی ہلاکت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دورے کی دلچسپ کہانی بتائی کہا کہ میں مٹھی گیا تو لوگوں کو چارپائیوں پر لٹادیا گیا۔ دو دن کیلئے نرسزاورڈاکٹرز کو لایا گیا،ہمارے بعد سارااسپتال اٹھا لیا گیا۔

مٹھی میں صحت کی ناقص سہولیات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئےچیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ مٹھی اسپتال میں آٹھ سال سے ایکسرے مشین خراب ہے،آپریشن تھیٹرتو ہےمگرسرجن ہے نہ ادویات ہیں،ایک سکول کا دورہ کیا جس میں سٹاف تھا نہ ہی پینے کیلئے پانی جبکہ اسکول میں تو واش روم تک نہیں تھا۔ تھر سے زیادہ ابتر حالت کسی کی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تھر سے پانی بھی بطور سیمپل لیکر آیا ہوں۔ کیونکہ  جو پانی میں نے وہاں پلانٹ سے پیا ،اسے پینے کے بعد سارا دن پریشان رہا،وزیراعلیٰ سندھ نے تو ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پیا۔ کیس کی سماعت 27 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

 

Children Death

heath department

saqin nisar

Tabool ads will show in this div