گیس بحران کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کو معاف نہیں کیا جائےگا،عمران خان

 

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں جاری گیس بحران کو جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔وزیراعظم نے سوئی سدرن،ناردرن کےبورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحليل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

گیس کے مسائل پر وزیراعظم عمران خان کا بیان آگیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ گيس بحران بڑا مسئلہ ہے،ہر صورت ختم کريں گے۔ وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کا جو بھي ذمہ دار ہے،کسي صورت معاف نہيں کيا جائے گا۔ وزیراعظم نے واضح ہدایت کی ہے کہ عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے،عوام کی ترجمانی کیلئے حکومت میں آئے ہیں۔

تحلیل کئے جانے والے سوئی نادرن کےبورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کی تعداد 14 ہےجبکہ سوئی سدرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں 11 ارکان شامل ہیں۔وزیراعظم دونوں کمپنیوں کے ایم ڈیز کیخلاف پہلے ہی انکوائری کا حکم دے چکے ہیں،4 رکنی کمیٹی ایم ڈیز کیخلاف تحقیقات کر رہی ہے۔

 ادھر سندھ میں گیس کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ کراچي سميت سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہمی کی بندش کا آج چوتھے روز بھي سامنا ہے۔ کراچي ميں پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہے۔کراچی سمیت سندھ بھر میں  سی این جی اسٹیشنز ویران پڑے ہيں۔ سڑکوں سے بسیں غائب ہیں اور دفاتر اور کاروبار پر جانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شہری اس اذیت کے باعث پریشان ہیں۔ جو ایک دو بسیں چل رہي ہيں ان کی چھتوں پر بھی جگہ کم پڑگئی ہے۔

 متبادل ٹرانسپورٹ کے خرچ نے کراچی والوں کو پریشان کردیا ہے۔ سندھ بھر کے تمام سی این جی اسٹیشنز کو ہر ہفتے پیر، بدھ اور جمعہ کو بند کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہفتہ اور اتوار کو گیس کی فراہمی کا آغاز ہوتا ہے۔اس وقت کراچی میں 300 اور اندرون سندھ350 سی این جی اسٹیشنز قائم ہیں۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش کا چوتھا روز

ادھر سی این جی کي بندش کے باعث ضلع بدین میں بھی ہزاروں مسافرگاڑیاں کھڑی ہوگئیں۔ روزانہ اجرت پر کام کرنےوالے ڈرائیور اوردیگر عملہ بے روزگار ہوگیا ہے۔شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہی کہ اس بحران کا جلد از جلد کوئی حل تلاش کیا جائے۔

ترجمان سوئی سدرن نے کہا ہے کہ گیس میں سپلائی کمی کا سامنا ہے،سسٹم کے لائن پيک میں بہتری کے بعد گیس سپلائی معمول پرآسکے گي۔ ترجمان سوئی سدرن  نے مزید کہا کہ گھریلو صارفین کے بعد سی این جی سیکٹر کو گیس سپلائی کی جاتی ہے۔

ڈپٹي منيجنگ ڈائريکٹر پي پي ايل ايسٹ آپريشنز نے پي پي ايل کي گمبٹ ساؤتھ فيلڈ سے گيس کی سو فيصد فراہمی کی خبروں کي ترديد کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پيداوارميں تقريباً30ايم ايم ايس سي ايف يوميہ کي کمی واقع ہوئی۔ پيداوار ميں کمي کي وجہ آئل اسٹوريج ايشو ہے۔ اس کے علاوہ کنڑپساکھی فيلڈ سے بھي گيس پيداوار ميں کمي کي اطلاعات ہیں۔ پيداوارميں کمي 20ايم ايم سي ايس ايف يوميہ ہے۔

وزیراعظم کا سوئی نادرن اور سوئی سدرن کے ایم ڈیز کیخلاف انکوائری کا حکم

اس کے علاوہ گیس بحران کی ذمہ دار سوئی سدرن کمپنی کی نااہلی کی سماء نے ایک اور داستان ڈھونڈ نکالی ہے۔ ایل این جی سپلائی کرنے والے 6 کمپریسرز نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔سال 2017 کے نئے کمپریسر 2018 میں چوک ہوکر بند ہوگئے۔ جلد بازی اور شاہد خاقان حکومت کے دباؤ میں آکر سپلائی شروع کی گئی لیکن لائنوں کا کچرا اربوں کے کمپریسرز کو ایک ہی سال میں لے بیٹھا ۔

اس کے باعث  پنجاب کو گیس سپلائی کا تمام بوجھ  2 پرانے کمپریسرز پر آگیا ہے۔

IMRAN KHAN

Energy Crisis

gas crisis

Tabool ads will show in this div