کراچی سمیت سندھ بھرمیں آج سے سی این جی سپلائی بند،پبلک ٹرانسپورٹ کاپہیہ جام

سندھ بھر ميں بدھ سے سي اين جي اسٹيشنز کو غير معينہ مدت کيلئے بند کردیا گیا ہے، جس کے بعد صنعتی یونٹس بھی گیس سے محروم ہوگئے۔ سی این جی بند ہونے سے صوبے بھر میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام، جب کہ لوگوں کو دفاتر اور اپنی منزلوں تک جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑکوں پر پبلک ٹرانپسورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

سی این جی اسٹیشنز کی غیر معینہ مدت تک بندش پر سندھ ٹرانسپورٹ اتحاد نے بدھ سے بسیں نہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ سي اين جي ايسوسي ايشن نے بھی سوئی سدرن دفتر کے باہر احتجاج کی کال دے دی۔ سی این جی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی میں آئے دن کا ناغہ ختم کیا جائے، اگر گیس فراہم نہ کی گئی توشارع فیصل بلاک کریں گے۔

 

سندھ ٹرانسپورٹ اتحاد کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد بسوں اور رکشوں پر سفر کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی میں 90 فیصد پبلک ٹرانسپورٹ سی این جی پر ہیں۔

 

دوسری جانب سوئی سدرن حکام کا کہنا ہے کہ سندھ میں تین گیس فیلڈز بند ہیں جس کے باعث صوبے میں گیس کا بحران سنگین ہوگیا ہے۔ سردی بڑھنے کے سبب گھریلو صارفین کی گیس کی طلب میں اضافے ہوا ہے۔ ٹنڈوجام میں کنرپساکھی اور گمبٹ فیلڈ میں فنی خرابی آگئی ہے۔

 

سندھ میں گیس بحران کے باعث کراچی میں گھریلو صارفین کو بھی گیس کی فراہمی میں پریشانی کا سامنا ہے، جب کہ مختلف علاقوں سے دن بھر گیس پریشر میں کمی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق سندھ میں پہلی بار مسلسل تیسرے روز اور غیر معینہ مدت کیلئے سی این جی بند کی گئی ہے، جب کہ سندھ 70 فیصد گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔

 

واضح رہے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق سندھ بھر کے تمام سی این جی اسٹیشنز کو ہر ہفتے پیر، بدھ اور جمعہ کو بند کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہفتہ اور اتوار کو گیس کی فراہمی کا آغاز ہوتا ہے۔

 

اس وقت کراچی میں 300 اور اندرون سندھ350 سی این جی اسٹشنز قائم ہیں۔

public transport

gas supply

Tabool ads will show in this div