سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس، سیف سٹی پراجیکٹ پورے شہر میں پھیلانے سمیت اہم فیصلے

Dec 10, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/Murtaza-Wahab-KHI-SOT-10-12.mp4"][/video]  

وزيراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیف سٹی منصوبہ پورے شہر میں پھیلانے، دھماکا خیز مواد کے کاروبار کو ریگولرائز کرنے، موٹر سائیکل کی سیکنڈری مارکیٹس کیخلاف کارروائی سمیت اہم فیصلے کئے گئے، اجلاس کو ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس نے بریفنگ دی۔ مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا کہ کراچی سمیت پورے صوبے کو کرائم فری زون بنادیا، گورنر کو ایپکس کمیٹی سے نکالنے کا تاثر غلط ہے۔

وزيراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ڈی جی رینجرز، آئی جی پولیس سمیت دیگر اداروں کے سربراہان اور اعلی حکام نے شرکت کی۔

ایپکس کميٹی نے فیصلہ کیا کہ ٹریفک سگنلز اور سڑکوں کی مرمت، انسداد تجاوزات مہم کے دوران واگزار زمین کے درست استعمال اور دھماکا خیز مواد کے کاروبار کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا۔

مشیر قانون و اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہم نے کراچی کو کرائم فری بنادیا ہے، کراچی میں 38 فیصد ان پڑھ جرائم میں ملوث ہیں، 2013ء میں کراچی کا شمار خطرناک شہروں میں ہوتا تھا، چوری کی موٹر سائیکل جرائم میں استعمال ہوتی ہیں، موٹر سائیکلوں کی سیکنڈری مارکیٹس کیخلاف کارروائی کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ موبائل فون کی سيکنڈری مارکيٹ پر نظر رکھی جائے گی، چوری شدہ موبائلز کی خريد و فروخت کی روک تھام کی جائے گی، اجلاس ميں بارڈر سيکيورٹی فورس کو مزيد فعال بنانے کا بھی فيصلہ ہوا، سيف سٹی پراجيکٹ کو پورے شہر ميں پھيلايا جائيگا، سيف سٹی کا پراجيکٹ ريڈ زون سے شروع  کيا جائے گا۔

مشیر اطلاعات کہتے ہیں کہ کراچی ميں تجاوزات کیخلاف آپريشن پر بات چيت ہوئی، جن لوگوں کا روزگار جارہا ہے، انہيں متبادل فراہم کيا جائے گا، احتجاج کرنا ہر کسی کا آئینی اور قانونی حق ہے، ديکھنا ہوگا سرکاری املاک کو نقصان تو نہيں پہنچايا جارہا، سندھ حکومت کسی غلط چیز کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ ایپکس کمیٹی سے گورنر کو نکال دیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 1400 سے زائد پلاٹس خالی کروائے گئے، ايسے اقدامات کئے جائیں کہ زمینوں پر دوبارہ قبضہ نہ ہو۔

ڈی جی رینجرز نے بریفنگ میں بتایا کہ 2018ء ميں 4031 آپريشنز میں 2000 سے زائد ملزمان کو گرفتار کيا گيا، اسٹریٹ کرائم میں 3ہزار 641 گرفتاریاں ہوئیں، 2008ء کے مقابلے میں جرائم میں نمایاں کمی آئی۔

تجویز دی گئی کہ بازاروں، فیکٹریوں، اداروں کو موٹر سائيکل پارکنگ دينے کيلئے پابند کيا جائے، موبائل بيچنے يا خريدنے والے کی تفصيلات اداروں اور دکاندار کے پاس ہونی چاہئيں۔

آئی جی سندھ نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ  رواں سال 12 ہزار 733 ملزمان اور 601 گينگ گرفتار کئے، 97 ملزمان مختلف مقابلوں ميں مارے گئے، بڑی تعداد میں اسلحہ اور بھاری گولہ بارود برآمد کیا گیا، ڈکیتیوں کے دوران نومبر تک 47 افراد قتل ہوئے، چینی قونصلیٹ حملے کے تینوں دہشت گردوں بھی فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

وزيراعلیٰ سندھ نے ہدایت کہ ڈکيتيوں کو ہر صورت کنٹرول کريں، پوليس اسٹيشن کی کارکردگی بہتر ہوگی تو ڈکيتياں ختم ہوجائيں گی۔

APEX COMMITTEE

MOBILE

MURAD ALI SHAH

MURTAZA WAHAB

Tabool ads will show in this div