تازہ ترین

ایم کیو ایم کی محفل میلاد میں دھماکہ، ابتدائی تحقیقات مکمل

Dec 09, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/Johar-Blast-Khi-09-12.mp4"][/video]

کراچي کے علاقے گلستان جوہرمیں پرفيوم چوک پرایم کیوایم کے زیراہتمام محفل میلاد میں ہونے والا دھماکہ پلانٹڈ ڈیوائس سے کیا گیا۔ جائے دھماکہ سے ڈیٹونیٹر بھی مل گیا۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی۔

گزشتہ رات ایم کیو ایم کی محفل میلاد میں دھماکے سے وفاقي وزير خالد مقبول صديقي کے کوآرڈینیٹر سميت آٹھ افراد زخمي ہوئے تھے۔

تحقيقاتي اداروں کي ابتدائي رپورٹ کے مطابق دھماکے ميں ڈھائي سو سے تين سو گرام بارود استعمال ہوا، جسے فٹ پاتھ پر رکھ کر سيفٹي ٹائم ڈيوائس کے ذريعے اڑايا گيا جائے وقوعہ سے پلاسٹک کے ٹکڑے بھي ملےہیں۔

پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے محفل میلاد کے شرکاء کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئي ۔جائے وقوعہ سے ايک ڈيٹونيٹربھی برآمد ہوا۔

ايس ايس پي ايسٹ اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق بظاہردھماکا کريکرکا لگتا ہے۔دھماکے کي جگہ پرگہرا گڑھا پڑگيا جبکہ شدت سے قريب کھڑي گاڑيوں کےشيشے بھي ٹوٹ گئے۔

ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار اورخالد مقبول صدیقی بھی دھماکے کے وقت محفل میں موجود تھے،تاہم دونوں رہنما محفوظ رہے۔

دھماکے کے فوري بعد ایم کیو ایم رہنما عامر خان اور فاروق ستار اسپتال پہنچے اور زخميوں کي عيادت کي۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی خواجہ اظہارالحسن اور فیصل سبزواری کوفون کرکے خیریت دریافت کی اور زخميوں کے مکمل علاج کي يقين دہاني کرائي۔

واضح رہے کہ ايم کيوايم کے زيراہتمام گلستان جوہرپرفيوم چوک پرمحفل میلاد جاری تھی کہ اچانک دھماکا ہوا اورپنڈال ميں بھگدڑ مچ گئي۔ دھماکے سے خالد مقبول صديقي کے کوآرڈينيٹر سميت آٹھ افراد زخمي ہوئے۔جنہيں جناح اور نجي اسپتال منتقل کياگيا۔ ڈاکٹرز کے مطابق دو افراد کي حالت تشويشناک ہے۔

 

Karachi Blast

blast at civil hospital

8 Injured

Tabool ads will show in this div