کالمز / بلاگ

تقسیم ہند کے دوران بچھڑے رشتوں کی کہانی : آنگن

برِصغیر پاک و ہند کی تقسیم صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ رشتوں، خاندانوں اور گھرانوں کی بھی تقسیم تھی، جہاں نہ لوگوں نے اپنے عزیز وں کی قربانیاں دیں بلکہ اپنے زندہ خونی رشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، ایسی دل دہلا دینے والی داستانیں آج بھی ہمارے گھروں میں زندہ ہیں اور جب بھی موقع ملے وہ ہمارے بزرگوں کے دلوں پر حاوی ہو جاتی ہیں، کوئی بھی محفل ہماری دادی یا نانی کے زمانے کے قصوں کے بغیر ادھوری ہے جہاں وہ بچوں کو اپنے عزیزوں، سہیلیوں اور بچپن کی یادیں نہ سنائیں۔

اپنوں سے دوری ایسی ازیت ہے جس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو اس سے گزری ہو، ہماری نانی بتاتی ہیں تقسیم کے دوران وہ آگرہ میں مقیم تھیں، اس وقت کا منظر بہت ہولناک تھا سامنے سے ڈاک گاڑی گزرا کرتی تھی جس سے خون بہتا نظر آتا تھا، لوگوں کو مار کاٹ کر چلتی ہوئی گاڑی میں پھینک دیا جاتا تھا، نانی بتاتی ہیں کہ ان کے تایا اور تائی لاشوں کے بیچ چھپ کر پاکستان آئے تاکہ ایسا لگے کہ گاڑی میں صرف لاشیں ہیں، کوئی بھی زندہ نہیں جبکہ پاکستان آتے ہی تائی کا خوف سے انتقال ہو گیا۔

نانی خود شادی ہو کر پاکستان آئیں لیکن وہ خود سرحد پار دوبارہ اپنی بہن کے انتقال تک میں نہیں جا سکیں، ان کی والدہ جب اپنی بیٹی سے پاکستان ملنے آئیں تو گھر میں آگ لگنے سے ان کا پاسپورٹ جل گیا پھر وہ یہی مقیم ہو گئیں اور ادھر ہی وفات پائی، نانی جان کے اسکول کی باتیں، ہندو مسلم سہیلیوں کے ساتھ وقت گزارنا ان کو سب یاد آتا ہے، بزرگوں کی یادیں ان کے دلوں میں زندہ ہیں جن کو وہ یاد کر کے خوش بھی ہوتے ہیں اور کبھی دکھی بھی۔

سرحدوں کی تقسیم کا وقت دل کو دھلا دینے والا تھا، 1962 میں خدیجہ مستور نے اپنا ناول آنگن تحریر کیا جس میں انھوں نے سماجی، معاشرتی، سیاسی نظریات کو قلمبند کیا، اس ناول کی خاص بات یہ ہے کہ اسے 13 زبانوں میں لکھا جا چکا ہے، 1962 میں آنگن کو آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مشہور ڈائریکٹر احتشام الدین نے خدیجہ مستور کے ناول آنگن کو چھوٹے پردے پر لانے کا ارادہ کیا، جسے مصطفی آفریدی نے تحریر کیا ہے، مومنہ درید کا تیار کردہ ڈرامہ آنگن میں 1948-1938 کے دور کو نمایاں کیا گیا ہے، جس میں جذباتی، سیاسی، ثقافتی، سماجی اور اخلاقی احساسات کو دیکھایا جائے گا کہا جائے تو یہ ایک گھرانے کی کہانی ہے، کس طرح ان دنوں انقلاب کے دوران خواتین چار دیواری کے اندر زندگی گزارا کرتی تھیں اور کس طرح ان پر انقلاب کے اثرات نمایاں تھے، اس دور میں خواتین کی معلومات کا واحد زریعہ صرف مرد حضرات ہوتے تھے، کہا جا سکتا ہے کہ ڈرامے کو خواتین کے نقطہ نظر سے بیان کیا گیا ہے، یہ ڈرامہ کئی پیڑیوں کی کہانی پر مشتمل ہوگا، جبکہ اس ڈرامے کی ہر قسط میں ایک نیا پہلو سامنے آئے گا، جس میں مختلف عشروں کو دیکھایا گیا ہے، دو نسلوں کو دیکھایا گیا ہے۔

ڈرامہ آنگن میں پاکستان ٹیلی ویژن انڈسٹری کے نامور اداکار اپنی اداکاری کے جوہر دکھائیں گے، مرکزی کرداروں میں ماورہ حسین نے عالیہ کا کردار نبھایا ہے، جو ڈرامہ میں کہانی بیان کرتی ہوئی دیکھائی دیں گی، ماورہ ایک ایسا کردار کرتی ہوئی نظر آئیں گی جو محبت کے اوپر اپنی ذمہ داریوں کو ترجیح دیتی ہے۔

شوخ و چنچل چھمی کا کردار اداکارہ سجل علی نبھارہی ہیں، ڈرامے کی جھلکیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چھمی ایک خوش مزاج، شاعرانہ انداز اور محبت میں ڈوبی ہوئی لڑکی ہے،جہاں ایک طرف محبت سر چڑھ کر بول رہی ہے تو دوسری طرف انقلاب کی اس جنگ میں وہ مسلم لیگ کے نارے لگاتی ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔

 

احسن خان نے صفدر کا کردار نبھایا ہے کہا جا رہا ہے کہ اس ڈرامے میں ان کا ڈبل رول ہے۔

 

جبکہ احد رضا میر نے جمیل کا کردار نبھایا ہے، جمیل ایک شاعر، سیاست دان ہے جس کا مقصد اپنے خوابوں کو پورا کرنا ہے، اس ڈارمے میں ناظرین کو چھمی اور جمیل کی دلچسپ کیمسٹری دیکھنے کو ملے گی، چھمی خود کو محبت کے لیے قربان کرتی ہوئی دکھائی دے گی، دیگر مرکزی کرداروں میں سونیہ حسین نے سلمہ کا کردار نبھایا ہے جبکہ حرا مانی تہمینہ عالیہ کی بہن کے کردار میں دکھائی دیں گی۔

ڈرامہ آنگن میں پرانا زمانہ دکھایا گیا ہے، خواتین کے ملبوسات، قدیم عمارتیں، رسم و رواج، مدھر موسیقی، قدیم گاڑیاں اور دیہاتی ماحول بھی بہت خوبصورت انداز میں دیکھایا گیا ہے. اس ڈرامے کو وزیرستان، لاہور اور کراچی میں فلمایا گیا ہے۔

پچھلے سال احتشام الدین کو پزیرائی دلوانے والا ڈرامہ اڈاری اب تک ناظرین کے دلوں میں راج کر رہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آنگن کس حد تک لوگوں کے دلوں میں گھر کرتا ہے۔

اس ڈرامے کی پہلی قسط 13 دسمبر بروز جمعرات کو شب 8 بجے ہم ٹی وی پر نشر ہو گی۔

 

ahsan khan

Sonya Hussain

sajal ali

Ahad Raza Mir

aangan drama.

Tabool ads will show in this div