کالمز / بلاگ

ٹیسٹ کرکٹ میں سرفراز کی کپتانی مشکلات کا شکار

Dec 07, 2018
AFP_1BD0B3
AFP_1BD0B3

ابوظہبی میں کھیلی جانی والی پاکستان کی ٹیسٹ ہوم سیریز کے سلسلے کے آخری میچ کے دوران جب نیوزی لینڈ کی پاکستان پر تقریباً 150 رنز کی برتری تھی اور 56 اوورز گزرنے کے باوجود ایک بھی وکٹ نہیں گرسکی تھی، اس وقت کیوی کپتان کین ولیم سن اور ہنری نکلس کے درمیان شراکت 162 رنز تک پہنچ چکی تھی مگر ان کے آؤٹ ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا تھا، میچ پاکستان کی گرفت سے آہستہ آہستہ نکل رہا تھا۔

اس دوراہے پر کپتان سرفراز احمد کے سامنے آپشن تھا، نئی گیند بھی دستیاب تھی اور 150 سے زیادہ کا ہدف پاکستان کیلئے مشکلات کھڑی کرسکتا تھا لیکن پھر بھی میچ جیتنے کے امکانات ابھی روشن تھے۔

نئی گیند کو استعمال کیا جاتا تو دو امکانات ہوسکتے تھے، یا تو وکٹ جلدی مل جاتیں یا پھر رنز کا انبار بڑھ جاتا، یعنی کچھ اچھا بھی ہوسکتا تھا اور کچھ برا بھی، لیکن پھر بھی نئی گیند ایک آپشن تھا جہاں کچھ بہتری کی امید بھی تھی، لیکن پھر بھی سرفراز نے اس آپشن سے احتراز کیا اور نتیجتاً کَین ولیم سن اور ہنری نکلس نے کھیل کو پاکستان کی گرفت سے نکال لیا۔

ایک ایسی سیریز میں جہاں صورتحال ہر لحظہ بدلتی جارہی تھی، وکٹ لینا ہی واحد طریقہ تھا، مگر سرفراز نے رنز روکنے کی حکمت عملی کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔

دن کے اختتام تک کیویز کی برتری 200 ہوگئی اور ایسا لگنے لگا تھا کہ میچ پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ اب یہ لگنے لگا تھا کہ پاکستان کے پاس اب صرف یہ آپشن تھا کہ اپنی گرفت کو مضبوط کرکے ناگزیر شکست کے انجام کو کسی طرح مؤخر کیا جائے ۔

لیکن میچ کے پانچویں دن حسن علی نے نئی گیند استعمال کرلی، ایسے موقع پر جب رنز روکنا ایک واحد آپشن تھا، سرفراز نے وکٹ لینے کا سوچا، آنے والے 9 اوورز میں پاکستان کو 4 وکٹ ملیں لیکن ساتھ ہی کیویز ٹی 20 موڈ میں آگئے اور انہوں نے 81 رنز بنا لیے۔

پہلی تین اننگز میں سرفراز کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ چوتھی اننگز میں بغیر کسی حکمت عملی کے گئے۔

ابھی 80 اوورز باقی تھے اور 280 رنز حاصل کرنا تھے، ایسے میں ٹیم کے پاس دو آپشن تھے، جارحانہ انداز اختیار کرکے ہدف کی طرف بڑھا جائے یا دفاعی انداز میں کھیل کر میچ کو ڈرا کی طرف لے جایا جائے۔

ایسا لگا کہ سرفراز کی سوچ یہ تھی کہ کسی بھی فیصلے کیلئے لنچ تک انتظار کیا جائے، تذبذب کی یہ کیفیت پاکستان کیلئے کافی مہنگی ثابت ہوئی، کیونکہ لنچ تک آدھی ٹیم پویلین واپس لوٹ چکی تھی، اس طرح ہم میچ تقریباً ہار ہی چکے تھے۔

اس طرح سرفراز بطور کپتان 10 میں سے آدھے ٹیسٹ ہار گئے تھے، باقی میں سے 4 جیتے اور ایک ڈرا ہوا تھا۔

سابقہ کپتان مصباح الحق پر ہونے والی تنقید یہی تھی کہ ان کی کپتانی میں پاکستان سست روی کا شکار رہا اور دفاعی کھیل پیش کرتا رہا۔ ان کا رن ریٹ 3.05 تھا لیکن سرفراز کی کپتانی میں یہ رن ریٹ مزید گر کر 2.93 ہوگیا، پریشانی کی بات یہ بھی ہے کہ ناصرف بولنگ بلکہ میدان میں کھلاڑیوں کی فیلڈنگ کی جگہوں کو متعین کرنا بھی دفاعی انداز کا شکار ہوگیا۔

جبکہ مصباح کی کپتانی میں زمبابوے، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے علاوہ تمام ٹیمیں پاکستان کیخلاف محض فی اوور تین رنز بنا سکیں۔

موجودہ کپتان نے مختصر طرز کے دونوں کھیلوں خصوصاً ٹی 20 کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، ان کی طرف سے ایسی کارکردگی حیران کن ہے، اس طرح سرفراز بحیثیت ٹی 20 کپتان اور ٹیسٹ کپتان دونوں میں بہت بڑا فرق نظر آتا ہے۔ سرفراز ٹی 20 میچز میں خوب رنگ میں نظر آتے ہیں، اسٹمپس کے پیچھے ہر ڈلیوری کو جیتے ہیں، ساتھی کھلاڑیوں پر چیختے چلاتے ہیں، مسلسل فیڈ بیک دیتے ہیں، یعنی پوری طرح کھیل میں ڈوبے نظر آتے ہیں لیکن ٹیسٹ کھیلتے وقت ان کا وہ انداز نہیں رہتا۔

ایسا لگتا ہے کہ ٹیسٹ میں کھیل کے پانچوں دن سرفراز کا یہی فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ یکساں توانائی خرچ کریں گے، خواہ 40 اوورز کا کھیل ہو، یا 100 اوورز کا یا 450 اوورز کا۔

سرفراز خوب دانشمند ہیں اور انہیں پتا ہے کہ ٹیسٹ میں کپتانی کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، کھیل کے دوران ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب تکلیف دہ حد تک یہ بات دِکھ رہی ہوتی ہے کہ ٹیسٹ کپتانی ان کی فطرت کے مناسب نہیں۔

ٹی 20 میں وہ ہر موقع کا پوری طرح استعمال کررہے ہوتے ہیں جبکہ ٹیسٹ میں وہ بلے بازوں کو آرام دہ کرسی فراہم کرکے ان کو چائے بھی پیش کرتے ہیں، یوں، ٹیسٹ کے کھیل میں یا تو وہ دلچسپی نہیں رکھتے یا اس فارمیٹ کی کپتانی کرنے کیلئے اہل ہی نہیں۔

سرفراز کی ٹی 20 ٹیم میں نقائص ہوسکتے ہیں لیکن کم ہمتی نہیں جبکہ ان کی ٹیسٹ ٹیم میں کچھ اچھی خوبیاں ہوسکتی ہیں لیکن ان میں ڈٹ جانے والی صفت نہیں۔

اب پاکستانی ٹیم جنوبی افریقا روانہ ہوگی، اگر ٹیم نے سیریز میں مکمل شکست سے بچنا ہے تو سرفراز کو اپنی طرز کپتانی میں تبدیلی لانی ہوگی اور اس متضاد خصوصیات والی کپتانی سے اپنے آپ کو نکالنا ہوگا۔

 

Sarfraz Ahmad

test captaincy

Tabool ads will show in this div