کراچی:سپراسٹورزپردرآمدی نیوٹیلا،پنیر،سیریل اورفرنچ فرائزکیوں نہیں مل رہے؟

Dec 07, 2018

کیا آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ سپرمارکیٹ گئے ہوں اور وہاں جا کراپنا پسندیدہ نیوٹیلا سپریڈ نہ ملا ہو؟ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں، بہت سے دیگر صارفین بھی آپ کے ساتھ ہیں جنہوں نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ انہیں کھانے پینے کی امپورٹڈ (درآمدی) اشیا جیسے کہ سیریلز، پنیر، فرائز یاچاکلیٹ وغیرہ نہیں مل رہے کیونکہ کراچی کے متعدد بڑے اسٹورزپران اشیا کی قلت ہوگئی ہے۔

مارکیٹ سروے کے مطابق اگرڈالرکی قیمت میں مزید اضافہ ہوا تو چند اسٹورزپر یہ اشیا ملنا بند ہوجائیں گی۔

ڈالر کی بڑھتی قیمتوں اور اضافی ڈیوٹی نے تاجرحضرات کی معاشی حالت کو بھی ٹھیک ٹھاک متاثرکیا ہے، اسی وجہ سے وہ بڑی تعداد میں یہ اشیا درآمد کرنے سے قاصر ہیں۔ جبکہ کچھ چھوٹے تاجروں کا کاروبار تو تقریبا ختم ہوگیا ہے، اسی وجہ سے شہر کے بڑے اسٹور جیسے کہ امتیاز سپر مارکیٹ اور دیگرپر امپورٹڈ اشیا کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

امتیازسپرمارکیٹ کے عملے میں سےایک نے بتایا کہ جوس، مشروبات، چاکلیٹس، پنیر اور سیریلزسمیت تمام درآمدی اشیا مہنگی ہوگئی ہیں اور دستیاب بھی نہیں۔

عملے کے مطابق ان میں سے کچھ اشیا ابھی فروخت کی جا رہی ہیں کیونکہ حال ہی میں سامان باہرسے آیا تھا لیکن اگرڈالرکی یہی قیمت برقرار رہی تو ان اشیا کی فراہمی میں خلل آسکتا ہےاور اگرڈالر کی قیمت مزید بڑھی تو صورتحال بدتر بھی ہوسکتی ہے۔

اسٹاف نے مزید بتایا کہ ڈالی کی قیمت میں اضافے سے ان اشیا کی قیمتوں پر گہرا اثر پڑا ہے اور درآمدی ڈیوٹی تقریبا دگنی ہو گئی ہے۔ہر کسی کے پاس اتنی رقم بھی نہیں کہ بڑی تعداد میں یہ اشیا باہر سے منگوا سکے۔

رواں سال اکتوبرکے وسط میں حکومت کی جانب سے 570 اشیائے خرونوش کی درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا تھا جن میں ڈیری مصنوعات شامل نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ دودھ اورکریم کی درآمدی ڈیوٹی میں 25 فیصد، پاؤڈر 25 فیصد، پنیر 50 فیصد، چاکلیٹ 30 فیصداور فروٹ جوسز کی درآمدی ڈیوٹی میں 60 فئصد اضافی کیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈالر کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا جو 128 سے بڑھتے بڑھتے گزشتہ روز 139 تک جا پہنچی۔ اسی وجہ سے تاجروں کیلئے بڑی تعداد میں یہ اشیا درآمد کرنا مزید مہنگا ہوگیا۔ جبکہ امتیاز سپر مارکیٹ میں خریدی جانے والی کل اشیا کا 25 فیصد غیرملکی اشیائے خرونوش پر مشتمل ہے۔

اس حوالے سے سپلائی چین منیجمنٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے ذرائع کے مطابق ڈیوٹی میں اضافے اور ڈالر کی اونچی پرواز کے باعث طلب اور رسد میں بڑا فرق آیا۔ طلب کا توازن قائم رکھنے کے لیے سپراسٹورز پر درآمدی اشیا کا 3 مہینے کا اضافی اسٹاک ہوتا ہے جو کہ ختم ہوگیا ہے۔

ایسی صورتحال اس لیے بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ جب حکومت کی جانب سے گروسری اشیا پر ڈیوٹی لگائی گئی تو تاجر حضرات نے یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج کردیا تھا۔ تاجروں کو یہ امید تھی کہ عدالت سے ان کے حق میں فیصلہ آئے گا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ڈیوٹیزمیں اضافہ نہیں کرے گا۔ معاملہ 3 ماہ تک عدالت میں زیرسماعت رہا اور اس دوران تاجروں نےاسی امید کے ساتھ درآمدی اشیا کو مارکیٹ میں لانے سے روکے رکھا جبکہ کیس کا فیصلہ ایف بی آر کے حق میں آیا اور نتیجتا درآمدی اشیا مزید مہنگی ہوگئیں، ساتھ ہی ڈالر کی قیمتوں نے بھی معاملہ مزید بگاڑا۔

Cheese

nutella

Dollar rates

Imtiaz super market

Tabool ads will show in this div