امریکا کیلئے پاکستان کرائے کی بندوق نہیں،عمران خان

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہ نہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹوئٹر پر جنگ نہیں تھی،صرف حقائق کی درستگی کے لئے موقف دیا تھا،امریکا کے لیے پاکستان کرائے کی بندوق نہیں ہے۔

اسلام آباد میں امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ امریکی صدر کے ٹوئٹ پر ردعمل امریکا کی فرسودہ ناکام پالیسیوں اور افغانستان میں فوجی کردار کے حوالے سے دیا۔

ان سے سوال ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ وزیراعظم کو نہیں بلکہ گذشتہ وزرائے اعظم پر تنقید کی تھی، اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ طالبان کے ٹھکانوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہےجبکہ پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔

عمران خان نے بتایا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو انھیں سیکورٹی اداروں کی جانب سے مکمل بریفنگ دی گئی، انھوں نے بتایا کہ امریکا سے کئی بار پوچھا گیا کہ پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہیں کہاں موجود ہیں اور ہم خود ان کے خلاف کارروائیاں کریں گے،لیکن پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہیں موجود ہی نہیں ۔

وزیراعظم سے سوال ہوا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں، اس پر انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی 27 لاکھ افغان پناہ گزین بڑے کیمپوں میں موجود ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر نگرانی کا سخت نظام ہے،امریکا کے پاس ڈرونز اور سیٹلائٹس ہیں، کسی کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔

اپنے انٹرویو میں عمران خان نے اس بات کو دُہرایا کہ پہلے تو یہ کہ پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں،اگر چند سو ہیں بھی تو2ہزار سے 3 ہزار طالبان پاکستان آئے اور ان افغان کیمپوں میں مقیم ہیں۔

صدر ٹرمپ کے خط سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس سلسلے میں ہم ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ عمران خان نے بتایا کہ طالبان پر دباؤ ڈال کر مذاکرات کی میز پر لانے کی بات کہنا آسان اور کرنا مشکل ہے،یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ افغانستان میں اب بھی 40 فیصدعلاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔

فرد، ادارے اور ادارہ، ملک سے بالاتر نہیں ہونا چاہئے، آرمی چیف

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت طالبان کے رہنماؤں کی سرپرستی نہیں کررہا اور یہ صرف الزامات ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہیں۔ پاکستان کا نائین الیون میں کوئی کردار نہیں تھا،افغانستان میں القاعدہ موجود تھی اور کوئی پاکستانی اس واقعے میں ملوث نہیں تھا۔ اس کے باوجود پاکستان کو اس جنگ میں شامل ہونے کے لیے امریکا نے کہا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ان سمیت کئی پاکستانیوں نے اس جنگ کی مخالفت کی۔ 80 کی دہائی میں پاکستان نے سویت جہاد میں امریکا کے اتحادی کا کردار ادا کیا۔ جب 1989 میں سویت یونین کا خاتمہ ہوا توامریکا بھی واپس چلا گیا اور پاکستان کے حصے میں عسکری تنظیمیں اور40 لاکھ افغانی آئے۔

عمران خان نے امکان ظاہر کیا کہ اگر پاکستان نائین الیون کے بعد نیوٹرل رہتا تو اس نقصان سے محفوظ ہوتا جو اس کے بعد ہوا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے لیے فرنٹ لائن اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان کا بے پناہ نقصان ہوا۔ اس جنگ میں 80 ہزار لوگ مارے گئے،معیشت کو150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،سرمایہ کار اور کھیلوں کے عالمی مقابلوں کے لیے ٹیموں نے آنے سے انکار کیا۔پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہونے لگا۔

زلمے خلیل زاد کا حالیہ دورہ افغان امن کیلئے مدد مانگنے کیلئے تھا، دفترِ خارجہ

افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ کئی سالوں سے کہہ رہا ہوں کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،اس پر لوگوں نے طالبان خان کا نام دے دیا،اگر آپ امریکا کی پالیسیوں کے حامی نہیں ہیں تو آپ کو امریکا مخالف تصور کیا جاتاہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اب خوشی ہے کہ ہر کسی کو سمجھ آگئی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا صرف سیاسی حل موجود ہے۔ پاکستان کا نظریہ یہ ہے کہ امریکا کو افغانستان سے واپس جانے میں 1989 والی جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ اس بار کوئی حل نکلنا چاہئے،1989 میں امریکا کی افغانستان سے واپسی کے بعد عدم استحکام کے باعث طالبان کا قیام عمل میں آیا۔

اپنے انٹرویو میں انھوں نے دو ٹوک کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک سے ایسے تعلقات نہیں چاہتا جہاں اس کو امداد دے کردوسروں کی جنگ لڑنا پڑے،اس نہج پر اب دوبارہ کبھی نہیں آنا چاہیں گے۔اس سے نا صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ قبائلی علاقوں میں بھی تباہی آئی اور پاکستان کا تشخص مجروح ہوا،اس لیے امریکا کے ساتھ باقاعدہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔انھوں نے مزید واضح کیا کہ جیسے چین پاکستان تعلقات یک طرفہ نہیں ہیں  اور دونوں ممالک میں تجارتی روابط بھی ہیں،اس نوعیت کے تعلقات امریکا سے بھی چاہتے ہیں۔

افغانستان کے مسلے کا کوئی فوجی حل نہیں ،عمران خان

اسامہ بن لادن سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ان کی موجودگی کی اطلاع سے پاکستان کو آگاہ کرنا چاہئے تھا اور امریکا نے اس معاملے پر پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا،یہ باعث شرمندگی تھا کیوں کہ پاکستان کو علم نہیں تھا کہ وہ دوست ملک ہے یا دشمن ۔

بھارت سے متعلق عمران خان نے بتایا کہ پڑوسی ملک نے اس لئے مثبت اشارےنہیں دئیے ہیں کیوںکہ وہاں انتخابات ہونے والے ہیں،برسراقتدار جماعت مسلم مخالف اور پاکستان مخالف سوچ رکھتی ہے ،اس لیے وہاں سے کوئی اچھا پیغام نہیں آیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کردیا کہ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ دہشت گردی کا ایک واقعہ تھا۔ امید ہے کہ بھارت میں انتخابات کے بعد امن مذاکرات بحال ہونگے۔

ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق وزیراعظم نے بتایا کہ 2013 میں پچھلی حکومت جب اقتدار میں آئی تو معاشی خسارہ ڈھائی ارب ڈالر تھا اور 2018 میں یہ خسارہ بڑھ کر 19 ارب ڈالر تک جاپہنچا ہے۔ کسی ایسے ملک کے لیے یہ بہت بڑا فرق ہے جس کی برآمدات کم ہورہی ہوں،اس لیے فوری طور پر معیشت کو مستحکم بنانا اہم ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی امداد کی ضرورت تھی اور اس حوالے سے مدد ملی ہے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ چین ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے معاشی امداد موصول ہوئی ہے اور یہ اعداد شمار ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حوالے سے عمران خان نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں،پاکستان نہیں چاہتا کہ اس پر ایسے شرائط لاگو کئے جائیں جس سے ملک میں مزید بےروزگاری اور مہنگائی بڑھے،آئی ایم ایف کے کچھ شرائط سے عام آدمی کو نقصان ہوگا اور یہ بات فکر انگیز ہے۔

 

IMRAN KHAN

WASHINGTON POST

war against terror

Twitter war

Tabool ads will show in this div