کالمز / بلاگ

وزیراعظم عمران خان مشکلات کا شکار ہیں

وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمی کا منصب سنبھالے چار ماہ بھی نہیں ہوئے اور وہ مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے انتخابات سے قبل عوام سے جو وعدے کئے وہ سب ایک خواب سا لگتا ہے۔ عمران خان نے بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح وعدے تو کئے مگر وعدے نبھانے میں وہ تاخیر کر رہے ہیں اوروہ افراد جو تحریک انصاف کو سپورٹ کرتے تھے وہ بھی موجودہ حکومت سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کی 100 دنوں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی متاثرکن نہیں رہی بلکہ 100 دنوں میں عمران خان نے قوم کو مزید مقروض کردیا۔

عمران خان الیکشن سے پہلے پر تقریر میں یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے مگر اب تک انہوں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔ حکومت سنبھالتے ہی گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی ستائی ہوئی عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر مزید بوجھ بڑھا دیا ہے۔ مہنگائی سے پریشان پرامید تھی کہ عمران خان عوام کو ریلیف فراہم کریں گے مگر الٹ ہوا اور عوام پر مہنگائی اور نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ جو لوگ کہتے تھے عمران خان اچھے حکمران ثابت ہوں گے وہ کہہ رہے ہیں کہ  سب سیاستدان ایک جیسے ہیں۔

حکومت کے ابتدائی چار مہینوں میں وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مشکلات دیکھ کر لگتا ہے کہ عمران خان شاید زیادہ عرصے حکمرانی نا کرسکیں۔ موجودہ حکومت کو مدت مکمل کرنی چاہیے تاکہ جمہوریت رواں دواں رہے مگر حالات دیکھ کر ایسا لگتا نہیں کہ حکومت مدت پوری کرسکے۔ عمران خان کی کابینہ میں شامل لوگ عمران خان کے مشن کی تکمیل میں ان کی مدد کے بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور ان کی کابینہ کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری روزانہ ایسے بیانات دیتے ہیں جس سے حکومت اور اپوزیشن میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ فواد چوہدری مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر بلاجواز تنقید کر کے دراصل عمران خان اور ان کی حکومت کے لئے پارلیمانی سطح پر مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے کردار ادا کریں اور اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔

عمران خان کے لئے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان کی اہم ترین اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان بھی حکومت کی ابتدائی سو دن کی کارکردگی سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے اہم ترین رہنما فیصل سبزواری نے تحریک انصاف کی حکومت کی سو دن کی کارکردگی پر 100 میں سے 1 نمبر دیا جو میرے خیال میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایم کیو ایم وفاقی حکومت میں شامل تو ہے مگر عمران خان اور حکومت سے ناراض ہے۔ ایم کیو ایم کی ناراضگی عمران خان کے لئے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے، اس لئے وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان سے کئے گئے معاہدے پر عمل در آمد کریں۔

ملکی معیشت کا یہ حال ہے کہ روزانہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافے سے ایک ہی ماہ کے اندر مہنگائی میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔ عمران خان وزیر خزانہ اسد عمر کی کارکردگی سے خوش نظر نہیں آتے اور شاید اسد عمر ہی قربانی کا پہلا بکرا ثابت ہوں۔ یہ تو آغاز ہے، ابھی عمران خان کو مشکلوں کے انبار کا سامنا کرنا ہے کیونکہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔

IMRAN KHAN

PTI government

100 days of PTI government

Tabool ads will show in this div