زلمے خلیل زاد کا حالیہ دورہ افغان امن کیلئے مدد مانگنے کیلئے تھا، دفترِ خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہےکہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا حالیہ دورہ پاکستان افغان امن کے حوالے سے مدد مانگنے کیلئے ہی تھا۔ انھوں نے چینی سرکاری ٹی وی پر مقبوضہ کمشیر کو بھارت کا حصہ دکھانے کی خبریں غلط قرار دے دیں اور ساتھ ہی کہا کہ کوئی سوچے بھی ناں کہ کرتار پور کے باعث مسئلہ کشمیر پس منظر میں جا سکتا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کی اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دبنگ اندازچین کے سرکاری ٹی وی پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھائے جانے کی سختی سے تردید کردی ۔

انھوں نے کشمیریوں پر مظالم کی شدید مذمت کی اور واضح کردیا کہ کرتارپور کوریڈور کا مسئلہ کمشیر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا آگے نہ بڑھنا بڑا مسئلہ ہے۔کرتار پورپربھارتی حکومت کا مثبت تعاون ضروری ہے، بھارت میں انتخابات اس کی حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہو رہے ہیں،عوامی سطح پر رابطوں میں پیشرفت کا انحصار نئی دہلی پر ہے ۔

ترجمان نے وزیر اعظم کے دورہ قطر کی تفصیلات بتانے سےگریزکیا اور کہا کہ امریکی نمائندہ خصوصی کے دورہ اسلام آباد میں کولیشن سپورٹ فنڈ پر بھی بات ہوئی ۔

ڈاکٹر فیصل نے واضح کیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی کی پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں، زلمے خلیل زاد کے دورہ پاکستان میں کوئی شرط نہیں رکھی گی ،بات چیت کا انحصار کچھ لینے اور کچھ دینے کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے ،امریکا کے ساتھ سی ایس ایف پر بات چیت شروع ہوئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ممبئی حملہ کیس عدالت میں ہے،اس پر تبصرہ نہیں کرونگا  جبکہ طالبان وفد کے پاکستان آنے کے حوالے سے لاعلمی بھی ظاہر کردی ۔

FOREIGN OFFICE

zalmay khaleel zad

Tabool ads will show in this div