آن لائن دہشتگردی سےنمٹنےکیلئے"نیشنل ایکشن پلان-2" ناگزیر قرار

Dec 05, 2018

سانحہ آرمی پبلک کے چار سال گزر جانے کے بعد حکومتی سطح پر نیا نیشنل ایکشن پلان لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئے نیشنل ایکشن پلان میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے جاری حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے بعد نیشنل ایکشن پلان ٹو لایا جائے گا، جب کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے بنیادی ڈھانچے اور خدوخال میں تبدیلی لائی جائے گی۔

 

ایف آئی اے سائبر ونگ کے ڈائریکٹر کیپٹن محمد شعیب کے مطابق ہمارا دائرہ کار صرف سائبر کرائمز تک محدود ہے، تاہم سائبر سیکیورٹی کیلئے قانون میں ترمیم اور تبدیلی سے یہ اختیار مل سکتا ہے۔

 

کیپٹن محمد شعیب کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک ایسی تنظیم یا ادارے کی شدید ضرورت ہے جو نیشنل اسٹریٹجک سطح پر کام کرسکے، کئی ممالک میں بڑے بڑے سائبر حملوں کی یہ ہی وجہ ہے کہ وہاں کا قومی حفاظتی نظام کمزوریوں سے بھرا ہے، جو ہیکرز یا سائبر دہشت گردوں کیلئے ترنوالہ ثابت ہوتے ہیں۔

 

معروف دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ عرصے دراز سے ایک ایسے آزاد ادارے کے قیام کی خواہاں تھی جو سائبر سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کرسکے، تاہم حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ نیکٹا کے ساتھ رہ کر یہ ہی کام بہتر طریقے سے کر رہی ہے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملک میں پہلے نیشنل ایکشن پلان کا قیام 16 دسمبر سال 2014 میں ہونے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد عمل میں آیا، جس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر 20 نکاتی حکمت عملی پر اتفاق کیا۔ دہشت گردوں کے آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں 132 طلباء سمیت 147 افراد شہید ہوئے تھے۔

 

اس پہلے نیشنل ایکشن پلان میں بھی سائبر سیکیورٹی اور جرائم کے خلاف قانونی کارروائی کو جگہ دی گئی۔ نیپ کا پوائنٹ 14 آن لائن ہونے والے جرائم، سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کے غلط استعمال پر کارروائی کا حکم دیتا ہے۔

 

نیشنل ایکشن پلان کا پوائنٹ 7 کالعدم تنظیموں کے دوبارہ فعال ہونے پر کارروائی سے متعلق ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اکثر مختلف کالعدم تنظیمیں نئے ناموں اور شناخت سے سامنے آتی ہے، تاکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دہشت گردوں کی معالی معاونت کرسکیں۔ یہ کالعدم تنظیموں انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی نئی شناخت سے دہشت گردوں اور ان کے مقاصد کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ایسے تمام اقدامات کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان میں کارروائی کیلئے خاص شق شامل کی گئی۔

 

الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لیے ملک میں پہلا سائبر کرائم بل سال 2016 میں پیش کیا گیا۔ اس بل میں ایسے 23 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔

 

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق ایسی ہی ایک مثال عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کی ہے، جو امریکی شہر ورجینیا سمیت کئی یورپی ممالک میں انٹرنیٹ، آن لائن اور سوشل میڈیا کے ذریعے پراپگنڈہ کرکے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتی اور انہیں دہشت گردی پر اکساتی ہے۔ کئی کمزور عقائد اور ذہن رکھنے والے افراد باآسانی اس کا ہدف بنتے ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظیم عام طور پر پڑھے لکھے نوجوان اور کچھے ذہنوں کے افراد کو سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹس اور سرگرمیوں کی جانچ کے بعد اپنے جال میں پھانستی ہے۔

 

ماریہ سلطان کا مزید کہنا تھا کہ حزب التحریر کا شمار میں ایسی ہی جہادی سوچ کی حامل کالعدم تنظیم میں ہوتا ہے، جو اپنے نفرت انگیز اور جہادی مواد کی بدولت لوگوں کو ہدف بنانے کیلئے اںٹرنیٹ کا سہارا لیتی ہے پاکستان میں تو آپ انٹرنیٹ پر ایسے جرائم سامنے آنے پر کارروائی کرسکتے ہیں، مگر ملک سے باہر بیٹھ کر جو لوگ یہاں یہ کارروائی کرتے ہیں ان کے خلاف ایکشن کیسے لیا جائے؟ ۔

 

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ سال 2004 میں ہنگری میں طے پانے والا اپنی نوعیت کا پہلا سائبر سیکیورٹی معاہدے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اگر پاکستان اس معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی پر اکسانے والوں کیلئے ٹھوس کارروائی عمل میں لائی جاسکے گی اور ملکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

 

واضح رہے کہ سال 2004 میں یورپی ملک ہنگری میں طے پانے والے اس پہلے سائبر کرائم معاہدے کو بداپسٹ کنونشن کا نام دیا گیا تھا، جس کے تحت ممبر ممالک آن لائن، سوشل میڈیا ، انٹرنیٹ سے متعلق جرائم کے خلاف قانون سازی، اس کے خلاف تحقیقات، نئی حکمت عملی اور آپس میں تعاون کو بڑھنے پر متفق ہوئے تھے۔

 

دیکھا جائے تو پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر سائبر جرائم سے متعلق ٹھوس اور فوری قوانین کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے، خاص کر ایک ایسے موقع پر جب کئی ہیکرز کی جانب سے بینکوں پر حملے اور ڈیٹا چوری کے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں اور اس تمام عمل میں کارروائی غیر ملکی زمین استعمال کرکے کی گئی۔

 

ایسے ہی خدشات اور جرائم کے خلاف اقدامات کیلئے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اسلام آباد میں فیس بک حکام سے بات چیت کی، جس میں آن لائن جرائم اور سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد کو روکنے سے متعلق گفت گو کی گئی۔

 

حالیہ دنوں میں نیکٹا حکام کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں بھی اسی بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے جتنی جلدی ممکن ہوسکے ملک میں ایسے قانون کو نافذ العمل بنایا جائے جو سائبر دہشت گردی اور جیسے جرائم پر فوری اور مربوط ایکشن لے سکے، جب کہ مدارس سے متعلق نئی پالیسی تشکیل دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ دہشت گرد جو مدارس کو اپنا آلہ کار بنا کر استعمال کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں وہ آنے والے دنوں میں ایسا نہ کرسکیں۔

 

قبل ازیں سال 2017 میں خیبر پختونخوا میں موجود تمام دینی مدارس نے حکومت کی طرف سے مدرسوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے عمل پر اصولی طورپر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم کئی افراد بشمول فضل الرحمان کی جانب سے مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور نصاب میں تبدیلی کے بیان پر شدید تحفظات اور ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

 

ایک ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ کی فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے اقدامات پر نظریں جمائے بیٹھی ہے، پاکستانی حکومت سائبر سیکیورٹی اور جرائم کے خاتمے اور قابو کیلئے کتنی جلدی اور کتنے دیرپا اقدامات عمل میں لاتی ہے، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

NACTA

national action plan

TERROR FINANCING

CYBER SECURITY

Madrasas

FATF

Tabool ads will show in this div