کراچی میں گٹکا بنانے پرپابندی کے احکامات ہوا میں اڑادئیے گئے

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/GUTKA-MAFIA-KHI-PKG-02-11.mp4"][/video]

کراچي پوليس نے کہا ہے کہ گٹکے فروخت کرنے کے الزام ميں 400 ملزمان گرفتار کرليے تاہم اب تک اس گندے دھندے پرکوئي فرق نہيں پڑا۔

کراچی میں پولیس نے تين ماہ ميں22ہزارکلوگٹکا ضبط کیا ہے جبکہ 400ملزمان گرفتارکيے جاچکے ہیں۔ پوليس کے اقدامات کے باوجود گٹکے کا کاروبار زور و شورسےجاری ہے۔

شہر میں 32 اقسام کے گٹکے  بلا روک ٹوک دستياب ہیں۔ لياري، کورنگي اورنگي وديگرعلاقوں ميں کھلےعام فروخت جاری ہے۔ اس لت میں مزدورطبقہ ہی نہیں بلکہ امراء بھی مبتلا ہیں۔ شوق سےعادت کا سفراب کمزوري بن چکي ہے۔

کراچی میں منشیات خریدنے والے90 فیصد طلبہ ہیں،ایڈیشنل آئی جی امیرشیخ

گٹکا بنانے ميں جن اشياء کا استعمال ہوتا ہے وہ کسی زہر سے کم نہيں ہیں۔پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں  22 ہزار کلو سے زائد گٹکا اور 400 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے اس کے باوجود شہر ميں گٹکے اور مين پوری کا کاروبار اب بھي جاری ہے۔

drug peddlers

Tabool ads will show in this div