جی 20 اجلاس میں ٹرمپ کی بیوقوفیاں،فرانسیسی صدر کیساتھ ہاتھ ہوگیا

ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں جاری دنیا کی 19 بڑی معاشی طاقتوں کے اجلاس کے دوران کئی عالمی رہنماوں کے ساتھ اچھوتے واقعات رونما ہوئے۔

اجلاس کے موقع پر 20 بڑی معاشی طاقتوں کی پالیسیوں کے خلاف جہاں لوگوں کا احتجاج جاری ہے، وہیں اجلاس کے اندر بھی کئی ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نظر آئے۔

 

دو روزہ اجلاس کی کہانی جمعہ کے روز شروع ہوئی، جب اجلاس میں شرکت کیلئے عالمی رہنماوں نے بیونس آئرس کا رخ کیا۔

فرانس کے صدر نے جب اپنی اہلیہ کے ہمراہ بیونس آئرس ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تو ان کے استقبال کیلئے وہاں کوئی آفیشل یا افسر موجود نہ تھا۔ طیارے اور ایئرلائن کے مخصوص افراد نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون اور اہلیہ کا استقبال کیا، تاہم جوں ہی صدر ایئرپورٹ پر موجود گاڑی میں بیٹھنے لگے، چاروں جانب سے ارجنٹائن کے عہدے دار ان کے استقبال کیلئے آگئے۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ اعلی افسران وقت پر ایئرپورٹ نہ پہنچ سکے تھے۔

 

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بڑی شان سے بیونس آئرس پہنچے۔

انیس بڑے صعنتی ممالک اور یورپی ممالک کی بیٹھک میں امریکا چین تجارتی تنازعے، سعودی صحافی خاشقجی کا قتل، یوکرائن روس تنازعہ اور بعض رکن ممالک کے خلاف امریکی صدر کے تیز و تند جملوں کے باعث اس بار ہونے والے اجلاس میں تقسیم واضح نظر آئی۔

اجلاس کے آغاز میں جب حسب روایت رکن ممالک اور اجلاس میں شریک سربراہان نے گروپ فوٹو بنوایا تو سعودی ولی عہد کونے میں کھڑے بلکل الگ تھلگ نظر آئے۔

 

اجلاس شروع ہونے سے قبل روسی صدر پیوٹن اور سعودی شہزادے کی گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ جی 20 اجلاس میں آئے محمد بن سلمان نے برطانوی وزیراعظم تھریسامے، چینی صدر، فرانسیسی صدر میکرون جنوبی اور شمالی کوریا کے سربراہان اور میکسیکو کے صدر سے بھی ملاقاتیں کی، تاہم محمد بن سلمان کی آخری اطلاعات آنے تک امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوئی، تاہم ہو سکتا ہے کہ اس اجلاس میں ان سے کوئی بات ہو جائے۔

اجلاس میں ایک موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور فرانسیسی صدر میکرون کی راز و نیاز میں ہونے والی گفت گو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ویڈیو کو سامنے مگر بڑے خفیہ طریقہ سے ریکارڈ کیا گیا۔

 

دونوں کہ درمیان کسی موضوع پر یہ گفت گو ہوئی۔

سعودي ولي عہد: فکر نا کريں فرانسيسي صدر:مجھے فکر ہے،ميں فکرمند ہوں۔ سعودي ولي عہد: ہاں فرانسيسي صدر :ميں نے آپ کو بتايا تھا سعودي ولي عہد: ہاں، ہاں يہ بات درست ہے فرانسيسي صدر :ميں آپ سے کہہ چکا تھا سعودي ولي عہد: ہاں، ہاں آپ نے مجھے بتايا تھا فرانسيسي صدر:آپ جانتے ہيں ميرا کيا مطلب ہے؟ فرانسيسي صدر :آپ نے ميري بات نہيں سني تھي سعودي ولي عہد: نہيں ميں نے بات ضروري سني تھي فرانسيسي صدر: اس لئے کہ ميں نے آپ سے کہا تھا فرانسيسي صدر : وہ آپ کے ليے زيادہ اہم تھي فرانسيسي صدر:يقين کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کو پتا ہے سعودي ولي عہد: سب ٹھيک ہے۔ ميں اس معاملہ سے نمٹ لوں گا فرانسيسي صدر:ميں اپني زبان کا پکا ہوں۔

گروپ فوٹو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات غضب کے نظر آئے، جیسے وہ کسی بات پر تلملا رہے ہوں۔

گروپ فوٹو میں ایک اور دلچسپ بات روسی صدر پیوٹن کا اسٹائل تھا، جہاں دیگر تمام ممالک کے سربراہان ہاتھ ہلا کر لوگوں کی تالیوں کا جواب دے رہے تھے، وہیں پیوٹن اپنے آپ کو کسی ملٹری اسمبلی میں کھڑا محسوس کرتے رہے۔

سیشن کے آغاز پر جہاں دیگر ممالک کے سربراہان خوش گپیوں اور باتوں میں مصروف تھے، وہیں امریکی صدر ٹرمپ ٹیبل پر اکیلے بیٹھے پیچ و تاب کھاتے رہے۔

ایک موقع پر معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے میزبان کی جانب سے دیا جانے والا قلم استعمال کرنے کے بجائے اپنی جیب سے قلم نکال کر استعمال کیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ میڈیا سے گفت گو میں ٹرمپ کی شکل دیکھنے والی تھی۔ مودی کی گاڑھی ہندی میں بات چیت ٹرمپ کے سر سے ایف 16 کی طرح گزری۔

 

ایک موقع پر تو امریکی صدر نے حد ہی کردی۔ ترجمے کیلئے کان میں لگایا گیا ایئر پیس نکال کر زمین پر رکھا دیا اور کہا کہ انہیں اچھی طرح سے ہسپانوی زبان سمجھ آتی ہے۔

ایسا ہی کچھ گروپ فوٹو کے موقع پر ہوا، امریکی صدر ارجنٹائن کے صدر سے ہاتھ ملا کر آگے چل پڑے اور بیچارے آرجنٹائن کے صدر انہیں آوازیں ہی دیتے رہ گئے۔

واضح رہے کہ جی 20 ممالک کا سربراہ اجلاس بیونس آئرس کے کوسٹا سالگویرو کنونشن سینٹر میں جاری ہے۔ اجلاس کی سیکیورٹی کےلیے25 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ کنونشن سینٹر کے اردگرد 5 میل کے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے ، لا پلاٹا ریور میں کارگو ٹریفک کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

 

جمعہ کو ہونے والے دارالحکومت بیونس آئرنس میں ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں افراد نے طاقتور صنعتی ممالک کی پالیسیوں کے خلاف مارچ کیا، اس موقع پر مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

MOHAMMAD BIN SALMAN

Emmanuel Macron

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div