نواز شریف کی استدعا منظور، پیر کو بیان ریکارڈ کرانے کا حکم

Nov 30, 2018

احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شريف کا بیان ریکارڈ کرانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے پیر تک کی مہلت دے دی۔


جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سماعت کی تو اس موقع پر سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے موقع پر نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے حتمی دلائل شروع کئے لیکن حتمی دلائل دوسرے روز بھی مکمل نہ ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پرانی مشینری سے العزیزیہ اسٹیل مل قائم کرنے یا دادا سے حسین نواز کو پیسے ملنے کے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں۔ واثق ملک نے بیرون ملک سے نواز شریف کو آنے والی رقوم کی تفصیلات بھی بتائیں۔

نیب پراسیکیوٹر کے دلائل کے دوران نواز شریف وضاحتیں دینے دو بار روسٹرم پر گئے۔ نواز شریف نے کہا باپ کو پیسے بھیجنا بیٹے کے لئے اعزاز کی بات ہوتی ہے لیکن رقم آنے سے میں مالک نہیں بن جاتا۔ نیب پراسیکیوٹر سے کہیں میری ملکیت ثابت کریں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا بیٹے خود بھی محنت کر کے ترقی کر لیتے ہیں، جوتے پالش کرنے والے بچے نے امتحان میں ٹاپ کیا۔

جج ارشد ملک نے کہا انہی لوگوں کی وجہ سے غریب کا بچہ جوتے پالش کر کے پڑھ رہا ہے۔ میاں صاحب وزیر اعظم تھے، انہیں بیٹوں سے پوچھنا چاہئے تھا کہ جائیداد کیسے بنائی۔ وکیل صفائی اپنی باری پر ان نقاط پر بھی جواب دیں۔

نواز شریف کی وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ 62 سوالوں کے جواب تیار ہیں صرف کچھ ریکارڈ دیکھنا ہے۔

عدالت نے نواز شریف سے مزید 78 سوالات پوچھ لیے جس کے بعد تعداد 140 ہوگئی ہیں۔

NAB court

assets reference

Tabool ads will show in this div