تبادلہ کیس: اعظم سواتی پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی

وفاقی وزیر اعظم سواتی نے اختیارات کا غلط استعمال ہی نہیں غلط بیانی بھی کی ۔ آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی۔ 

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کوئی معافی نہیں ہوگی، ہم اعظم سواتی کے خلاف چارج فریم کرتے ہیں۔

آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت  کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے  رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی جس کے مطابق جے آئی ٹی نے وفاقی وزیر کو قصور وار قرار دے دیا ۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور عدالت میں غلط بیانی کی۔ جبکہ پولیس نے بھی اُن کے ساتھ خصوصی رویہ اختیار کیا۔

وفاقی وزیر کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ اعظم سواتی ویانا کے دورے پر ہیں، تین دسمبر کو واپس آئیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، آپ اعظم سواتی کو واپس بلالیں یا پھر میں بلالیتا ہوں، ہمارے سامنے کوئی وزیر نہیں، اعظم سواتی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نوٹس جاری کر دیتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ موصوف کے خلاف چارج فریم کرتے ہیں، وہ اپنا جواب دیں ۔ عدالت  کا جے آئی ٹی رپورٹ کی نقل وکیل صفائی کو فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے متاثرہ خاندان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہم آپ کی غیرت کے لیے لڑرہے ہیں، آپ کو معافی دینے کا کیا حق ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اعظم سواتی نے کتنے ایکڑ پر قبضہ رکھا ہے، کیا ایسے شخص کو وزیر رہنا چاہیے۔

کیس کی مزید سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

azam Sawati

IG transfer case

Tabool ads will show in this div