مارگلہ کے دربدر بندر بھکاری بن گئے

 

کپڑوں کی جانوروں کو ضرورت نہیں ہوتی، رہا روٹی اور مکان تو یہ دونوں نعمتیں بھی اُن سے چھین چکا ہے انسان،مارگلہ کے جنگلوں کے تو بندر بھی اب سڑکوں پر آگئے ہیں،کچھ بھوک،کچھ لالچ اور کچھ سیاحوں کی ناسمجھی نے بندروں کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے۔

کبھی دکھ سکھ توکبھی کھیل کود اورادھم مچانا،بھوک لگے تو مزے لے کر پیٹ بھر کھانا،لیکن یہ تب کی بات ہے جب پہاڑ اور جنگل آباد تھے،پھر انسان نے پہلے یہاں رہنا شروع کیااور پھر قبضے، تباہی اوربربادی پراتر آیا۔

وائلڈ لائف کنزرویٹر میاں شفیع کیتے ہیں کہ ہم نے انکے مسکن پر قبضہ کر لیا تو انہیں بھی پھر کہیں جانا ہے انکے بھی گھر ہیں، یہ بھی اپنے رہنے کے لئے مناسب جگہ ڈھونڈھتے ہیں۔

گھر چھن گیا تو جنگلوں کا باسی سڑک پر آگیا،پیٹ بھرنا جان جوکھم کا کام بنا۔تو مورکھ لوگوں نے بھوک کو لالچ میں ڈھال کر بہت کچھ خطرے میں ڈال دیا ۔

بندروں کی بڑی تعداد اب قدرتی ماحول چھوڑ کرسڑک کنارے اس انتظار میں رہتی ہے کہ کوئی انسان آئے گا اور انہیں کھانا کھلائے گا۔

مارگلہ نیشنل پارک میں جنگلی حیات کے ساتھ ساتھ بندروں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے اس جنگلی حیات کو بچانے کے لئے جنگلی حیات کا ادارہ کچھ بھی اقدامات نہیں کررہا۔

margla islam abad

habitation

Tabool ads will show in this div