اگر اپوزیشن جماعتوں نے اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تو قبول کروں گا،نواب ثنا اللہ زہری

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ باپ پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے ،جو سابقہ وزراءاور سابقہ اراکین اسمبلی ہمارے خلاف عدم اعتماد میں پیش پیش تھے وہ عام انتخابات میں ہار گئے جو مسلم لیگ(ن) چھوڑکراقتدار کی خاطر کسی اورجماعت میں گئے تھے ان کو دوبارہ مسلم لیگ(ن) میں کسی صورت قبول نہیں کرینگے، ان ہاﺅس تبدیلی کے بارے میں وقت آنے پر بتاﺅنگا۔

 میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے اور 100 دن میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی فلاحی ریاست بنانے والے پہلے مہنگائی پر کنٹرول کریں، جب تک ملک کی معیشت بہتر نہیں ہو گی اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہونگے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ  پی ٹی آئی کی حکومت نے انتخابات سے قبل عوام کیساتھ جو وعدے کئے تھے ان وعدوں کی نفی کی  اور عوام کو دھوکہ دیا گیا، انہوں نےمزید  کہا  کہ روس اس لئے حصوں میں تقسیم ہواکہ ان کی معیشت خراب ہوئی جب کسی بھی ملک کی معیشت خراب ہو جاتی ہے تو وہ ملک چلانے کے قابل نہیں ہو تا۔

 نواب ثناءاللہ زہری  نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سب کچھ جام ہے اور وفاقی حکومت نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگا کر صوبے کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا  ہے،صوبے میں ہمارے دور میں مالی بحران نہیں تھا اور ہم نے جا تے جا تے خزانہ بھرا چھوڑا تھا ،اب ایک دم کیسے قومی خزانہ کو نقصان ہوا پتہ نہیں۔،

انھوں نے کہا کہ ہم نے بجٹ بنا تے وقت ہر ڈویژن کو ترقیاتی مد میں ایک ارب روپے کوئٹہ پیکج کو10 ارب روپے اور شہر کو پانی کی فراہمی کے لئے پٹ فیڈر کینال سے چالیس ارب روپے مختص کئے تھے جب کہ رواں سال کے لئے 10 ارب روپے رکھے تھے جن اضلاع میں اربوں روپے دیئے تھے وہ کیسے استعمال نہیں ہوئے ۔

 

nawab sana ullah zehri

BAP

apposition leader

Tabool ads will show in this div